.

شام نے امریکا کا ایرانی فوجیوں اور حزب اللہ کے انخلا سے متعلق مطالبہ مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے امریکا کا جنگ زدہ ملک سے ایرانی فوجیوں اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کے انخلا سے متعلق مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔

شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے روس کی خبررساں ایجنسی سپوتنک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ یہ موضوع تو گفتگو کے ایجنڈے میں بھی شامل نہیں کیونکہ اس کا شام کی خود مختاری سے تعلق ہے‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نے اسی ہفتے ایران سے نئے جوہری سمجھوتے کے لیے مطالبات کی ایک نئی فہرست جاری کی ہے۔انھوں نے ایک یہ مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی فوجی اور حزب اللہ کے جنگجو شام سے واپس چلے جائیں ۔ایران کے علاوہ روس شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کو باغیوں کے خلاف جنگ میں فوجی مدد مہیا کررہا ہے۔

روس کے لڑاکا طیارے شامی فوج کی مدد کے طور پر باغیوں پر فضائی حملے کررہے ہیں اور اس فضائی بمباری کے نتیجے ہی میں شامی فوج کے خلاف لڑائی میں حالیہ مہینوں کے دوران میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

فیصل مقداد نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام روس کی فوجی مدد کے علاوہ ایران اور حزب اللہ کے مشیروں کی معاونت کو بہت زیادہ سراہتا ہے۔