.

ٹرمپ اور کیم جون اون کے درمیان ملاقات میں تاخیر کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ ماہ ان کی شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ ملاقات نہیں ہو پائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات سے قبل شمالی کوریا کو کچھ شرائط پر عمل کرنا ہو گا اگر ایسا نہیں ہوا تو شاید سربراہ ملاقات تاخیر کا شکار ہو۔

یہ بات انھوں نے جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد کہی۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے اس کے یک طرفہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے پر اصرار کیا تو وہ یہ ملاقات منسوخ کر دے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تو نہیں بتایا کے امریکا نے شمالی کوریا کے سامنے کون سے شرائط رکھی ہیں لیکن شمالی کوریا کے ہتھیاروں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونا لازمی ہے۔ ‘

یہ ملاقات 12 جون کو سنگاپور میں کی جانی تھی۔ جس کے بعد دونوں کوریاؤں کے رہنماؤں کے درمیان اپریل میں ملاقات طے ہے۔

شمالی کوریا نے خیر سگالی کے طور پر رواں ہفتے ایک جوہری تنصیب کو ختم کرنا تھا لیکن خراب موسم کے باعث یہ کارروائی تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔

انھوں نے صحافیوں سے کہا ’ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘

’ہم نے کچھ شرائط رکھی ہیں جن پر ہم عمل چاہتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ان پر عمل ہونا چاہیے اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ ملاقات نہیں ہوگی۔‘

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا ’آپ معاہدوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ایسے معاہدے جو 100 فیصد یقینی ہوں۔ ایسا نہیں ہوتا۔ اور ایسے معاہدے جن کے ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا وہ ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ بہت آسانی سے ہو جاتا ہے۔`

اس سے پہلے امریکی نائب صدر مائیک پینس بھی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو متنبہ کر چکے ہیں کہ وہ اگلے ماہ صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات کو سنجیدگی سے لیں وگرنہ صدر ٹرمپ میٹنگ سے واک آؤٹ بھی کر سکتے ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ اگر شمالی کوریا کے رہنما نے اس ملاقات کو مذاق سمجھا تو یہ ان کی بہت بڑی غلطی ہو گی۔