.

یمنی جزیرہ سقطری سمندری طوفان مکونو کی زد میں، دسیوں افراد لاپتا اور بے گھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کا جزیرہ سقطری جمعرات کو سمندری طوفان مکونو کی زد میں آگیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں ،کشتیاں الٹ گئی ہیں اور سترہ افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔ یمن حکام نے سقطری میں اس سمندری طوفان کے بعد ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے۔

یمن کی وزارتِ ماہی پروری کے ایک عہدہ دار کے مطابق بحیرہ عرب میں واقع اس جزیرے میں طوفان کے ٹکرانے کے بعد ایک کشتی الٹ گئی تھی اور اس پر سوار افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔یمنی حکام نے پانی میں گھرے ہوئے دیہات سے دو سو سے زیادہ خاندانوں کو نکال لیا ہے۔

یمن کے ماہی پروری (فشریز) کے وزیر فہد کفین کا کہنا ہے کہ ایک اور کشتی بھی سقطری میں سمندر ی طوفان کے نتیجے میں الٹ گئی ہے جس کے بعد لاپتا ہونے والے افراد کی تعداد سترہ ہوگئی ہے۔مکونو طوفان کے بعد سیلاب میں تین کاریں بھی بہ گئی ہیں ۔

سقطری جزیرہ نما عرب اور ہارن آف افریقا کے درمیان واقع ہے ۔یہ جزیرہ یمن میں گذشتہ تین سال سے جاری جنگ کے دوران میں تشدد سے بچا رہا ہے ۔اس پر یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا کنٹرول ہے۔

یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی نے سرکاری خبررساں ایجنسی سبا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جزیرے میں واقع دیہات میں پھنسے لوگوں اور پہاڑی علاقے میں مقیم افراد کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔انھوں نے بین الاقوامی تنظیموں سے متاثرہ افراد کو امداد مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔

یہ سمندری طوفان آج یمن کے جنوبی علاقے اور ہمسایہ ملک اومان کے ساحلی علاقے سے ٹکرائے گا۔اومان کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق حکام نے صوبہ ظفار اور یمن کی سرحد کے ساتھ واقع دوسرے علاقوں کے اسپتالوں کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے خالی کرالیا ہے۔

یہ سمندری طوفان بدھ کو ہارن آف افریقا سے ٹکرایا تھا جس کے نتیجے میں صومالی لینڈ میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔