.

ایرانی جوہری معاہدہ بچانے کے لیے ویانا میں پانچ رکنی اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر 2015ء میں طے پائے معاہدے سے علاحدگی کے بعد اس معاہدے میں شامل دیگر پانچ عالمی طاقتوں نے سمجھوتے کو بچانے کے لیے ویانا میں بات چیت شروع کی ہے۔

مبصرین اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کے نکل جانے کے بعد ایران کے ساتھ طے پایا سمجھوتہ خطرات میں گھر چکا ہے جو کسی بھی وقت ناکام ہوسکتا ہے۔

امریکا کے جوہری سمجھوتے سے نکل جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایران کے نائب وزیر خارجہ کی موجودگی میں برطانیہ، فرانس، چین، جرمنی اور روس کے مندوبین اس معاہدے کو بچانے کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔

امریکا کی طرف سے ایران پر عاید کردہ نئی اقتصادی پابندیوں کے باعث یورپی ممالک کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اورکئی یورپی فرموں کے لیے ایران میں سرمایہ جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازع ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ 2015ء میں طے پایا تھا۔ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اس معاہدے پر مسلسل تحفظات کا اظہار کیاجاتا رہا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدرنے بالآخر مغربی طاقتوں اور ایران کے اس خدشے کو یقین میں بدل دیا جب واشنگٹن نے سمجھوتے سے علاحدگی کا اعلان کرتے ہوئے تہران پر نئی اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اپنی پالیسی نہ بدلی تو اس پر تاریخ کی سب سے موثر پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

امریکا کے نکل جانے کے بعد ایران اس سمجھوتے کی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایران معاہدے کو جاری رکھنے کے لیے یورپی ممالک سے ضمانتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔