.

جنسی ہراسیت کا الزام ، مراکشی صحافی کے خلاف عدالتی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش میں مقامی روزنامے "اخبار الیوم" کے ڈائریکٹر اور صحافی توفیق بوعشرین کا کیس ابھی تک شہ سرخیوں کا حصہ بنا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں جمعرات کے روز مقدمے کی سماعت ہوئی۔

بوعشرین جو مراکش کی پولیس نے 24 فروری کو گرفتار کیا تھا۔ وہ مراکش میں حکام پر اپنے تنقیدی اداریوں کے سبب مشہور ہیں۔

جمعرات کے روز مراکش کے شہر الدار البیضاء میں مذکورہ صحافی کے خلاف "جنسی حملوں" کے الزام کے تحت بند کمرے کی عدالتی کارروائی ہوئی۔ اس دوران 13 وڈیو ٹیپس بھی پیش کی گئیں جن کو استغاثہ ملزم کو قصور وار ٹھہرانے کے لیے اہم ثبوت شمار کرتا ہے۔ دوسری جانب بوعشرین کے دفاع کی ٹیم کو ان کے مستند ہونے پر اعتراض ہے۔

مذکورہ وڈیو ٹیپس نے ایک بڑا تنازع پیدا کر دیا ہے۔ بوعشرین کی دفاعی ٹیم کا دعوی ہے کہ ان ٹیپس سے کسی طور بھی حملہ یا دست دارزی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ "فعل" دوسرے فریق کی مرضی سے ہوا۔

یاد رہے کہ دو خواتین نے بوعشرین پر جنسی ہراسیت اور دست درازی کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے بعد مراکشی صحافی کو حراست میں لے لیا گیا۔ بوعشرین کو انسانی اسمگلنگ، جنسی استحصال، جبری ہتک عزت، عصمت دری، آبرو ریزی کی کوشش، جنسی ہراسیت اور "عکس بندی اور ریکارڈنگ کے لیے ذرائع کے استعمال" سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔

الدار البیضاء میں اپیل کورٹ کے ایڈوکیٹ نے بتایا کہ بوعشرین کو حراست میں لیے جانے کے دوران ان کے دفتر سے 50 وڈیو ٹیپس قبضے میں لی گئیں جن سے ان کی طرف منسوب افعال کی تصدیق ہوتی ہے۔ البتہ بوعشرین نے چند روز قبل عدالت میں جج کے سامنے ان وڈیو ٹیپس کے ذریعے کے حوالے سے "اپنی لا علمی" کا اظہار کیا تھا۔