.

مکونو طوفان اومان میں تباہی پھیلانے کے بعد سعودی ساحلوں کی جانب رواں دواں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سمندری طوفان مکونو خلیجی ریاست اومان (عُمان) میں تباہی پھیلانے کے بعد سعودی عرب کی جانب رواں دواں ہے اور وہ آج رات کسی وقت سعودی ساحلی حدود سے ٹکرانے والا ہے۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے موسمیات اور تحفظ ماحول کے مطابق مکونو طوفان سب سے پہلے الخرخير اورالربع الخالی کے ساحلی علاقوں میں داخل ہو گا۔ اتھارٹی کے ترجمان حسین القحطانی نے بتایا ہے کہ سمندری طوفان کے ساتھ شدید بارش بھی ہوگی اور 170 کلو میٹر فی گھنٹا کی رفتار سے تیز آندھی چلے گی۔

سعودی عرب کے محکمہ دفاع نے نجران میں مکونو طوفان کے نتیجےمیں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور وہاں اضافی امدادی ٹیمیں بھیج دی ہیں ۔

نجران میں نظامت برائے شہری دفاع کے ترجمان کیپٹن عبدالخالق علی القحطانی نے کہا ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے مطابق ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔ نظامت شرورہ کے علاقوں میں بھی کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے شہری دفاع کے مزید اہلکار اور آلات بھیج دیے گئے ہیں ۔

شہری دفا ع کی ٹیموں نے نجران کے مکینوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ آیندہ چند روز کے دوران میں مکونو طوفان کے نتیجے میں رونما ہونے والی موسمی تبدیلیوں میں محتاط رہیں ، وہ اپنے گھروں ہی میں مقیم رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔

مکونو طوفان جمعرات کو یمن کے جزیرہ سقطری سے ٹکرایا تھا اور اس کے متعدد دیہات زیر آب آگئے تھے جس کے بعد یمنی حکام نے سقطری میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا تھا ،مکونو نے یمن کے ساحلی علاقوں میں تباہی پھیلانے کے بعد ملک کے جنوبی علاقوں اور ریاست اومان میں صوبہ ظفار کے ساحلی علاقوں کا رُخ کیا تھا اور وہاں اس طوفان سے دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ سمندری طوفان بدھ کو ہارن آف افریقا سے ٹکرایا تھا جس کے نتیجے میں صومالی لینڈ میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔