.

ایرانی سکیورٹی فورسز اب مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سکیورٹی فورسز اب پختہ عزم کے ساتھ بد امنی پر قابو پائیں گی اور مظاہروں کو کچلیں گی تا کہ امریکا ان احتجاجی مظاہروں سے کوئی فائد ہ نہ اٹھا سکے۔

یہ بات ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی اعجئی نے اتوار کو ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’’ عدلیہ اور سکیورٹی ادارے کسی بھی ایسے گروپ یا فرد کے خلاف پختہ عزم کے ساتھ کارروائی کریں گے جو ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ میں خاندانوں پر زور دوں گا کہ وہ اپنے بچوں کو دشمن بالخصوص صہیونیوں (اسرائیل) اور امریکیوں کی شروع کردہ اس نفسیاتی جنگ میں بے وقوف نہ بننے دیں اور نہ انقلاب مخالفین کو جائز مطالبات کرنے والے مظاہرین کے ہجوم میں گھسنے کا موقع دیں‘‘۔

عدالتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’ان دنوں امریکی اور صہیونی اتنے زیادہ مایوس ہوچکے ہیں کہ وہ خطرناک افراد اور دہشت گردوں سے بھی رجوع کررہے ہیں اور ان تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 8 مئی کو جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے اعلان اور ایران پر امریکا کی اقتصاد ی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد سے ملک میں ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ان مظاہروں میں زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد حصہ لے رہے ہیں،ان میں اساتذہ ، ٹرک ڈرائیور بھی شامل ہیں ۔مئی کے اوائل میں جنوبی شہر کازرون میں احتجاجی مظاہرے کے دوران دو افراد ہلاک ہوگئے تھے اور مظاہرین نے ایک پولیس اسٹیشن کو نذر آتش کردیا تھا۔

ایرا ن کی حکمراں اشرافیہ اب گذشتہ دسمبر ایسی صورت حال نہیں چاہتی ہے ۔تب ملک کے 80 شہرو ں اور قصبوں میں پست معیار ِزندگی ، بے روزگاری اور غربت کے خلاف کئی روز تک احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے اور مظاہرین نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے زیر قیادت نظام ِ حکومت کے خاتمے کے مطالبات بھی کیے تھے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے حال ہی میں اپنے ہم وطنوں کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی ملکی معیشت امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہے جبکہ امریکی صدر ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عاید کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کو مزید پابندیوں سے بچنے کے لیے بارہ مطالبات پیش کیے ہیں۔

دوسری جانب ایران سے جوہری سمجھوتے پر دست خط کرنے والے تین یورپی ممالک برطانیہ جرمنی اور فرانس اس ڈیل کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں اور وہ ایران سے اپنی اپنی دوطرفہ تجارت کو بھی امریکی پابندیوں سے تحفظ دینا چاہتے ہیں۔وہ اس ضمن میں 31 مئی کو ایران کو اپنی نئی تجاویز پیش کریں گے۔