.

ایرانی پروفیسر کے بلوچ اہلِ سنت کے خلاف توہین آمیز بیان پر احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صوبے سیستان ،بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں جامعہ کے طلبہ نے ایک کالج پروفیسر کے بلوچ اہلِ سنت کے بارے میں توہین آمیز بیان پر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں ۔

بلوچ کارکنان نے یو ٹیوب پر ایک ویڈیو جاری کی ہے،اس میں پروفیسر کے اقلیتی گروپوں کے خلاف ریمارکس سنے جاسکتے ہیں ۔ وہ اقلیتی گروپوں کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کررہے ہیں اور انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔

ایران میں سُنی اقلیتی گروپ کے ایک سرکردہ رہ نما مولوی عبدالحمید نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اس پروفیسر کے بلوچوں کے خلاف توہین آمیز بیان کی مذمت کی ہے۔ان صاحب کو انتہا پسند جماعت کے شر انگیز عناصر میں سے ایک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران میں مختلف قوموں اور فرقوں کے درمیان امن وہم آہنگی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے درمیان کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس یونیورسٹی پروفیسر کے رویّے کو منافرت پر مبنی جُرم اور ایران کی قومی سلامتی کے منافی قرار دیں۔

بلوچستان اسٹڈیز سنٹر کے ڈائریکٹر عبدالستار دوشکی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ وہ جامعہ زاہدان کے پروفیسر کے رویّے کی مذمت کرتے ہیں۔ان صاحب نے بلوچ اور سنیوں کے خلاف انتہائی نسل پرستانہ ،منافرت پر مبنی اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پروفیسر کے بلوچوں اور سنیوں کے بارے میں خیالات منافرانہ ہیں۔ان صاحب نے جو کچھ کہا ہے ، یہ کوئی نئی بات نہیں اور گذشتہ چار عشروں سے ایرانی بلوچستان بھر میں اسی ماڈل کا اطلاق کیا جارہا ہے۔

خونیں جھڑپوں کی تاریخ

صوبہ سیستان ، بلوچستان ایران کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔اس کی سرحدیں پاکستان اور افغانستان سے ملتی ہیں۔یہ آبادی کے اعتبار سے ایران کا تیسرا بڑا صوبہ ہے اور ا س کی آبادی تیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔اس میں سنی بلوچوں کی آباد ی 87 فی صد ہے۔13 فی صد شیعہ سیستانی ہیں جو صوبے کے شمال میں واقع علاقے زابل میں آباد ہیں ۔

گذشتہ تین عشروں کے دوران میں اس صوبے میں متعدد مرتبہ بلوچ مسلح گروپوں کی سپاہ ِپاسداران انقلاب یا سرحدی محافظوں کے ساتھ خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں اور ایرانی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کے الزام میں دسیوں سنی بلوچوں کو سرسری سماعت کے بعد تختہ دار پر لٹکایا جاچکا ہے ۔

بلوچ کارکنان کا کہنا ہے کہ ایران کی مرکزی حکومت ان کے خلاف قومی اور فرقہ وار پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ان کے علاقے کو جان بوجھ کر ترقی سے محروم رکھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ صوبے کے عوام کو مشکل حالات میں زندگیاں گزارنے پر مجبور کررہی ہے اور انھیں دوسرے ایرانیوں کی طرح زندگی کی بہتر بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہیں ۔