.

ایران میں تبدیلی سے امریکی مراد نظام کی تبدیلی ہے:تجزیہ نگار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں مقیم ایک سینیر ایرانی تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ امریکا کا ایران میں تبدیلی سے مطلب ایرانی سیاسی نظام کی بساط لپیٹ کرنیا سیاسی نظام تشکیل دینا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی پالیسی تبدیل کرے تو اس سے مراد ایرانی نظام میں تبدیل کا مطالبہ ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹریو میں ایرانی تجزیہ نگار رضا برتشی زادہ نے کہا کہ ایران دہشت گردی کی حمایت ترک کرنے، خطے میں مداخلت روکنے اور اپنے جوہری اور میزائل اسلحہ کی تیاری بند کرنے کے مطالبات پرعمل درآمد نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عہدیداروں کی طرف سے ایرانی نظام میں تبدیلی کی اعلانیہ مہم نہ چلانے کے پیچھے بین الاقوامی تعلقات کا احترام آڑے آ رہا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکی پابندیاں ایران پر اثر انداز ہوسکیں گی تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا جس شدت کی ایران پر پابندیاں عاید کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، وہ ایران کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈالیں گی۔ ان پابندیوں سے ایران خاطر خواہ کمزور ہوگا۔ تاہم ان کاکہنا تھا کہ جنگ اور پابندیوں میں فرق یہ ہے کہ جنگ کا فوری اثر ہوتا ہے اور پابندیوں کا فوری اثر نہیں ہوتا، البتہ بتدریج ملک کمزور ہونا شروع ہوتا ہے۔

امریکا کی طرف سے جب ایرانی حکومت سے اپنے طرز عمل کو تبدیل کرنے پر زور دیا جاتا ہے تو اس سے مراد کیا لی جاتی ہے تو اس کےجواب میں رضا برتشی زادہ کا کہنا تھا کہ امریکا اصل میں ایرانی نظام کو بدلنا چاہتا ہے۔ جب امریکی ایران کی پالیسی میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو وہ ایرانی نظام کو بدلنے کی بات کرتے ہیں۔

جہاں تک ایرانی نظام کے نظریات کو تبدیل کرنے کی بات ہے تو یہ ناممکن ہے کیونکہ یہ نظام ’اختتام کائنات‘ کے نظریاتی اصول پرقائم ہے جو کسی دوسرے اصول کا پابند نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اس کے بعض یورپی اتحادی ایرانی نظام کو بدلنے کی کوشش کررہےہیں۔ اگرچہ امریکی عہدیدار کھلےعام ایران میں نظام کی تبدیلی کا نعرہ نہیں لگاتے مگر ان کی غیراعلانیہ پالیسی ایران میں نظام کی تبدیلی ہے۔

ایرانی تجزیہ نگار کا مزید کہنا ہے کہ خطے میں مداخلت کی ایرانی پالیسی یمن کے حوثی شدت پسندوں کی مدد، عراق، شام اور لبنانی حزب اللہ کی معاونت ایران کی علاقائی پالیسیوں کاحصہ ہے۔ ایران امریکا کی طرف سے ایسا کوئی مطالبہ قبول نہیں کرے گا۔

ایرانی رجیم اپنی آمریت کی بقاء کے لیے قوم کے وسائل کا بے دریغ استعمال کرنے کے ساتھ خطے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو سپورٹ کررہی ہے۔ اس وجہ سے خود ایران کے اندر بھی کشمکش جاری ہے۔ ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں مگر ایران میں ہونے والے مظاہروں کو مغربی ذرائع ابلاغ میں کما حقہ کوریج نہیں ملتی۔

ایران میں جاری عوامی احتجاج اور اس کے ایرانی رجیم کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات پر بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار نے کہا کہ ایران میں تبدیلی کے لیے عوامی احتجاج جاری رہے گا۔ ایرانی عوام کا غم وغصہ آتش فشاں بن کر پھٹنے والا ہے اور معاملات ایک بار پھر صفر کی طرف نہیں جائیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران امریکا کی ’اچھا بچہ‘ بننے کے لیے پیش کردہ 12 شرایط تسلیم کرے گا تو ایرانی دانشور نے کہا کہ ایرانی قیادت میں’ایسی جرات مندانہ لچک‘ کا جذبہ نہیں۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں آخری حد تک لچک دکھائی۔ میرا خیال ہے کہ امریکا کی بارہ شرائط ایران کےبنیادی سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودہ قیادت امریکا کی ایسی شرائط کو تسلیم نہیں کرے گی۔