.

یورپ جانے کا شوق، لوگ گاڑیوں میں کیسے کیسے چھپتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک مراکش سے یورپ جانے والےغیرقانونی تارکین وطن کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ لوگ یورپ جانے کے لیے انتہائی مشکل اور ناقابل یقین طریقے بھی استعمال کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے کے دوران مراکش کی پولیس نے اسپین جانے والی بسوں اور مال بردار گاڑیوں کی چیکنگ کا نظام سخت کیا ہے جس کے نتیجے میں انسانی اسمگلنگ یا غیرقانونی تارکین وطن کی آمد ورفت میں کمی آئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مراکش سے یورپ کا غیرقانونی سفر کرنے کے لیے استعامل کیے گئے بعض حربوں پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کی نظروں سے اوجھل رہنے کے لیے لوگ ایسے ایسے ڈھنگ اختیار کرتے ہیں جن پر یقین کرنا مشکل ہے۔ میڈیا کی زینت بننے والی بعض تصاویر اور فوٹیجز سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ یورپ جانے کے لیے خود کو کتنی مشکل میں ڈالتے ہیں۔

مراکش سے اسپین جانے والے بعض افراد کو گاڑیوں کےاگلے حصے میں انجین کیبن میں ڈالا جاتا اور انہیں وہاں سے اسپین پہنچایا جاتا یا دونوں پہیوں کی درمیانی پٹی میں لوگوں کو چھپایا جاتا ہے۔

جب سے پولیس نے سمندری راستے سے انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی یورپ روانگی پر کڑی نگرانی شروع کی ہے لوگ گاٰڑیوں میں چھپ چھپا کر یورپ کی طرف جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی صحارا سے آنے والے افریقی باشندں اور مراکش یا دوسرے ملکوں کے تارکین وطن ایک طویل سفر مشکل ترین حالت میں گذارتے ہیں۔ ٹائروں کے درمیان چھپ کر یا انجن بکس میں گھس کر مسلسل ایک یا دو دن کا سفر کوئی آسان کام نہیں مگر یورپ جانے کے شوقین اس صعوبت کو بھی برداشت کر جاتے ہیں۔ اب مراکشی پولیس نے گاڑیوں کی اس انداز میں بھی تلاشی شروع کی ہے تاکہ گاڑیوں کے اندرونی حصوں کو انسانی اسملنگ کےلیے استعمال کرنے سے روکا جاسکے۔

سوشل سائنسز کی ماہر مریم الشھبون کا کہنا ہے کہ جب سے پولیس نے سمندری راستے سے یورپ کا غیرقانونی سفر روکنے کا سلسلہ شروع کیاہے لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور انہوں نے نئے ڈھنگ اور طریقے اختیار کرنا شروع کردیے ہیں۔ لوگ ٹماٹر اور آلو سمیت سبزیاں لے جانے والی گاڑیوں مین سامان کے اندر چھپ کر یورپ جاتے ہیں۔ ٹائروں کے درمیان یا انجن کیبن میں چھپ کر نقل مکانی کرتی ہیں۔ پولیس نے ایک ٹرک کے اندرونی حصے سے 16 سالہ ایک مراکشی لڑکے کوبرآمد کیا جاسے مبینہ طورپر یورپ لے جانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔