.

امریکا نے ایران کی القدس ملیشیا کا مقابلہ کیسے کرنا شروع کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سینیر تجزیہ نگار ڈاکٹر کریم عبدیان بن سعید نے کہا ہے کہ امریکی فورسز نے خطے میں ایرانی مداخلت کی روک تھام کے لیے بیرون ملک سرگرم ایرانی ملیشیا ’فیلق القدس‘ کے خلاف اقدامات شروع کردیے ہیں۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر بنی سعید نے کہا کہ امریکا نے خطے میں اپنے دوست ممالک کو ایرانی ملیشیا کے خلاف کارروائیوں کے لیے فوجی، لاجسٹک اور انٹیلی جنس امداد فراہم کرنا شروع کی ہے تاکہ ’فیلق القدس‘ کو اپنے اثرات پھیلانے سے باز رکھا جاسکے۔

ڈاکٹر بنی سعید جو اھواز ڈیموکریٹک یکجہتی پارٹی کے مشیر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ کی طرف سے ایران پر12 شرائط واشنگٹن کی تہران کے خلاف جامع حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔ امریکی شرایط ایران کی خطے میں مداخلت اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو خطرے میں ڈالنے کا جوابی اقدام ہیں۔

بنی سعید کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کی ایران بارے حکمت عملی میں ایران میں حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کو مزید موثر بنانا ہے۔ اس کےساتھ ساتھ ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں ایرانی رجیم کی طاقت کو مزید کمزور کریں گی۔ اس کے نتیجے میں عوامی احتجاج شدت اختیار کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری عوامی احتجاج جمہوری تبدیلی، شہری آزادیوں، اقلیتوں کے حقوق کے مطالبے کے ساتھ پرامن رہتا ہے تو اسے لازمی طورپر عالمی برادری کی حمایت اور مدد حاصل رہے گی۔