.

حوثی لیڈر عبدالملک کا الحدیدہ کے ساحلی علاقوں میں شکست اور نقصانات کا اعتراف

نشری تقریر میں اپنے حامیوں سے میدانِ جنگ سے راہِ فرار اختیار نہ کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی شیعہ باغی لیڈر عبدالملک الحوثی نے ملک کے مغربی ساحلی علاقے میں اپنی ملیشیا کی شکست کا اعتراف کیا ہے اور اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ میدانِ جنگ سے راہِ فرار اختیار نہ کریں ۔

حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ چینل نے عبدالملک الحوثی کی ایک تقریر نشر کی ہے ۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’کچھ مقاصد کے تحت پسپائی کو جنگ کا خاتمہ قرار نہیں دیا جاسکتا‘‘۔

انھوں نے اپنی تقریر میں میدان ِ جنگ میں ہونے والی پیش رفت کا تذکرہ کیا ہے۔ان کی قیادت میں حوثی شیعہ باغیوں کو یمنی فوج کے ہاتھوں پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کے تحت فورسز عرب اتحاد کی فضائی مدد سے بڑی تیز رفتاری سے پیش قدمی کررہی ہے اور وہ الحدیدہ شہر سے صرف 18 کلومیٹر دو ر رہ گئی ہیں۔

الحوثی کا اپنے حامی جنگجوؤں سے کہنا تھا کہ وہ جنگ کے محاذوں سے راہِ فرار اختیار نہ کریں۔انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ساحل کی جانب سے ’’دراندازی‘‘ کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے الحدیدہ کے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ ’’وہ گھربار چھوڑ کر کہیں نہ جائیں ۔’’دشمن‘‘ الحدیدہ میں لڑائی شروع کرسکتا ہے لیکن اس کو ختم کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا‘‘۔ دشمن سے ان کی مراد یمن کی سرکاری فوج تھی جو ان کی قیادت میں حوثی شیعہ باغیوں کی بغاوت کو کچلنے اور ان کے زیر قبضہ علاقوں کو واگزار کرانے کے لیے کوشاں ہے۔

عبدالملک الحوثی نے تقریر میں الحدیدہ میں اپنے حامیوں کو بار بار مخاطب کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ’’ آپ کی آزادی اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ داؤ پر لگی ہوئی ہے‘‘۔انھوں نے اپنے حامیوں کو خبردار کیا ہےکہ’’ وہ کسی غفلت، بے پروائی ،الجھاؤ کا مظاہرہ کریں اور نہ تشویش کا شکار ہوں‘‘۔