ماکروں اور لیبیا کے تنازع کے مرکزی فریقوں کی ملاقات آج ہو رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کے صدر امانوئل ماکروں منگل کے روز الیزے پیلس میں لیبیا کے تنازع کے چاروں مرکزی فریقوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ اہم اجلاس اس امید پر منعقد کیا جا رہا ہے کہ معمر قذافی کی حکومت کے سقوط کے 7 برس بعد لیبیا میں انتخابات کا انعقاد اور ملک کو بحران سے نکالنے کی صورت پیدا ہو سکے گی۔

ذرائع نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس طرح کی خبریں بھی ہیں کہ لیبیا کی سیاسی قوتیں رواں برس 10 دسمبر کو صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے اجرا کے حوالے سے متفق ہو گئی ہیں۔

پیرس میں منگل کے روز ہونے والے اجلاس کے لیے فرانس کے وزیر خارجہ جان ایف لودریاں نے جن شخصیات کا استقبال کیا ان میں اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ لیبیا کی قومی یک جہتی کی حکومت کے وزیراعظم فائز سراج، فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر، پارلیمنٹ کے اسپیکر عقيلہ صالح عيسى اور کونسل آف اسٹیٹ کے سربراہ خالد المشری شامل ہیں۔

ملاقات سے قبل ماکروں نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا کی صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ تنازع کے فریقوں کے درمیان مصالحت کے لیے "فیصلے" کیے جائیں۔ ماکروں نے وزیراعظم فائز سراج سے مخاطب ہو کر کہا کہ "آپ کا کردار ہر مرحلے میں فیصلہ کن رہا"۔

اجلاس میں شریک لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسّان سلامہ نے واضح کیا کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ بحران سے نکلنے کے لیے لیبیائی ذمّے داران اپنے مقصد پر کاربند رہیں گے"۔

اجلاس میں متعلقہ لیبیائی فریقوں کے علاوہ 19 ممالک اور چار بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی شرکت کر رہے ہیں۔ اس اجلاس کی اہمیت کے باوجود لیبیا کے داخلی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کاوش کے کامیاب ہونے کے امکانات کم ہیں۔

لیبیا کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ملک کے سیاسی اور سکیورٹی منظر نامے کو کنٹرول کرنے والی قوتیں زمین پر موجود ہیں بالخصوص لیبیا کے مغرب میں مسلح ملیشیائیں جن میں بعض وفاق کی حکومت کی حلیف ہیں.. یہ مخاصم فریقوں کے درمیان کسی بھی پر امن موافقت یا صلح کی کوششوں کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ خاص طور پر لیبیا کے حوالے سے فرانس کے صدر کا منصوبہ ان قوتوں کے ویژن اور مفاد کے مطابق نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں