امریکا کی ایرانی گروپوں اور ایوین جیل پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرنئی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے محکمہ خزانہ نے ایران کے مختلف سرکاری گروپوں اور تہران میں واقع ایوین جیل پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام میں پابندیاں عاید کردی ہیں ۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے بدھ کو ایک نیم سرکاری پیرا ملٹری گروپ انصارِ حزب اللہ اور اس کے تین لیڈروں کے نام اپنی ممنوعہ فہرست میں شامل کر لیے ہیں ۔وہ عالمی مالیاتی اور تجارتی نظام سے کوئی کاروباری لین دین نہیں کرسکیں گے۔

محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ انصارِ حزب اللہ کو ایرانی رجیم کی حمایت حاصل ہے۔یہ تنظیم ایرانی عوام پر حملے اور انھیں ہراساں کرتی ہے‘‘۔ بیان میں اصفہان میں نامناسب لباس میں نظر آنے والی عورتوں پر اس تنظیم کے تیزاب حملوں اور طلبہ مظاہرین پر پُرتشدد حملوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

محکمہ خزانہ نے تہران کی ایوین جیل پر بھی پابندی عاید کردی ہے اور کہا ہے کہ یہاں سیاسی قیدیوں کو بند کیا جاتا ہے اور قید افراد کو جنسی اور جسمانی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کو بجلی سے جھٹکے دیے جاتے ہیں۔

ایران میں سنسر شپ میں ملوث دو عہدے داروں اور سرکار سے وابستہ ایک ٹیکنالوجی یونٹ ہنستا پروگرامنگ گروپ پر بھی نئی پابندیاں عاید کی گئی ہیں ۔ان دو عہدے داروں پر پیغام رسانی کی مقبول ایپلی کیشن ٹیلی گرام کو بلاک کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

محکمہ خزانہ کے مطابق ہنستا نے ٹیلی گرام کے متبادل کے طور پر پیغام رسانی کی ایک ایپلی کیشن تیار کی تھی جس کے ذریعے حکومت متعلقہ صارفین کے فون نمبروں کا سراغ لگا سکتی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں