ایرانی فن کاروں اور مشاہیر نے حسن روحانی کی دعوت افطار ٹھکرا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں شوبز سے وابستہ شخصیات، فن کاروں اور دیگر مشاہیر نے صدر حسن روحانی کی جانب سے افطار ڈنر کی دعوت مسترد کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فن کاروں کی جانب سے صدر روحانی کی جانب سے دی گئی افطاری میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ ملک میں مہنگائی اور ابتر معاشی حالات کے خلاف بہ طور احتجاج ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر حسن روحانی کی طرف سےشوبز کی کئی اہم شخصیات کو افطار پارٹی میں مدعو کیا گیا تھا مگر ان میں سے آناھیتا ھمتی، مہناز افشار، پرویز پروستوئی، خداداد ، پروز ارجمند، احسان کرمی اور فلو نظری نے صدر کی دعوت افطار مسترد کردی۔

روحانی کی دعوت افطار میں شرکت سے سب سے پہلے اعلانیہ انکار آناھیتا ہمتی نے انسٹا گرام پر دعوت نامہ پوسٹ کرنے سے کیا۔انہوں نے لکھا کہ ملک میں معاشی ابتری کا یہ عالم ہے کہ لوگوں کے پاس افطاری کو کچھ نہیں۔

... سلام آقای رییس جمهور من به افطاری شما نخواهم آمد.... سفره ما مردم ایران روز به روز خالی تر میشود... بیماری و فقر در استان های سیستان و بلوچستان روز به روز بیشتر میشود.... وضعیت زلزله زده ها، سالهای سال به همین منوال باقی مانده است (زلزله بم و حالا کرمانشاه) آب و هوایی که در بیشتر استان ها غبار آلوده است و هموطنان کوردمان روزی نیست که عذاب نکشند، کوله برانی که با شلیک کشته میشوند. حتی اسب هایشان تیرباران میشوند وضعیت زنان در هر حوزه ای که فکرش رو بکنید، روز به روز اسفبار تر میشود....‌وضعیت اسید پاشی و قوانین عقب افتاده درست نشده...‌بیماریهایی که خانواده ها برای پول دارو به هر جایی التماس میکنن و حاضرن تن به فروختن اعضای بدن خود بدهند... هنرمندانی که ممنوع هستند، هنری که سانسور میشود، آدم هایی که حذف میشوند. سرپنجه آهنینی گلویمان را سالهاست که سخت میفشارد، در حال خفه شدنیم .... واقعا در چنین شرایطی که من و مردم با فقر دست و پنجه نرم‌ میکنیم ، در حالیکه کوچکترین اعتراضی هم سرکوب میشود ، برای خودم حضور در چنین مکانی را جایز نمیدانم... #سفره_خالی_مردم #ما_به_افطاری_نخواهیم_رفت #آناهیتا_همتی #آناهیتاهمتی #آناهیتا #anahitahemmati #anahita #hope #peace #freedom #liberty #peaceandlove

A post shared by Anahita Hemmati (@anahitahemmati) on

انہوں نے لکھا کہ میں ٹی وی چینل سے اس لیے دور ہوں کیونکہ چینل عوام کے حقیقی مسائل پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

انہوں نے صدر حسن روحانی کے نام اپنے کھلے خط میں ملک میں غربت میں مسلسل اضافے، احتجاجی تحریکوں کو طاقت سے کچلنے اور شوبز پرعاید کردہ آہنی پابندیوں پر سخت احتجاج کیا۔

ادھر صدر حسن روحانی کی دعوت افطار ٹھکرانے والی ایک دوسری فن کارہ مہناز افشار نے کہا کہ ملک میں بچوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کارکن اثینا دائمی کو بھی شریک کرانے کامطالبہ کیا اور کہا دائمی حکومت کے خلاف سازش اور قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کی پاداش میں مسلسل سات سال سے جیلوں میں قید ہیں۔ جس ملک میں بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو قید وبند کی صعوبتوں میں ڈالا جاتا ہو وہاں صدر مملکت کو افطار پارٹیوں کے انعقاد کے بجائے قوم کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر ’مابہ افطاری نخواھیم رفت‘ کےعنوان سے صدر روحانی کی دعوت افطار کے بائیکاٹ کا مطالبہ ٹرینڈ کررہا ہے۔ اس مہم میں سماجی کارکنوں نے کہا ہے صدر حسن روحانی اپنی پہلی مدت صدارت میں عوام سے مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کا وعدہ کرچکےہیں مگر ان کا عوام سے کیا گیا کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ نیز ان کے صدر بننے کے بعد بھی ملک میں انسانی حقوق اسی طرح پامال ہو رہے ہیں۔

پست موقت بسم الله الرحمن الرحيم جناب آقاى رييس جمهور سلام. ضمن سپاس از دعوت حضرتعالى به عرض ميرساند كه با توجه به شرايط بد اقتصادى و روحى مردم كشورمان باور اين حقير بر اين استوار است كه چنين گرد هم آيى هايى كه مستلزم صرف هزينه هاى زياد است (و تعدادشان هم كم نيست)شايد حداقل از نگاه بنده و تعدادى از همكارانم چندان ضرورى نباشد. نيك ميدانم كه هدف شما از اين مهمانى افطار شنيدن حرف ها و بيان مشكلات جامعه هنرى از زبان آنهاست. اما تجربه چند سال اخير نشان داده كه شما حتى بيش از ما به اين مشكلات واقفيد و آنها را به بهانه هاى مختلف بيان ميداريد. اما ظاهرا ما بايد فقط دلخوش باشيم كه شما در كنار ما هستيد و اين مشكلات را ميدانيد و ميگوييد.چرا كه ظاهرا شما هم دنبال گوش شنوايى هستيد كه مشكلات را حل كند و از اين نظر دقيقا مانند ماييد. درخواستهاى ما و ساير اقشار مردم اينروزها چندان تفاوتى با هم ندارد. همه در يك كشتى هستيم و چشم اميد به شجاعت و عمل گرايى ناخدا بسته ايم. باشد كه به صخره نا اميدى برنخوريم كه سخت ترين صخره ها است. در پايان اضافه میکنیم که شايد اگر شما رييس جمهور نبوديد اكنون همين امكان براى ابراز نظر نيز فيلتر شده بود و همين كوچك هم نتيجه راى به شماست.اينها را درك ميكنيم و ممنونيم اما شما هم ما را درك كنيد. يا على پرویز پرستویی #ما_به_افطارى_نخواهيم_رفت

A post shared by Parviz Parastouei (@parvizparastouei) on

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں