مصر: چار اعلیٰ عہدے دار اجناس مہیا کرنے والی فرموں سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مصر میں چار اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کو خوردنی اجناس مہیا کرنے والی فرموں سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں مصرکی سرکاری فوڈ انڈسٹریز ہولڈنگ کمپنی ( ایف آئی ایچ سی ) کے چیئرمین بھی شامل ہیں ۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کے مطابق گرفتار کیے گئے باقی تین عہدے داروں میں وزارتِ رسد کے ایک مشیر بھی شامل ہیں ۔ وہ پارلیمان سے رابطہ کاری کے ذمے دار تھے۔ ان کے علاوہ اس وزارت کے ترجمان اور ایف آئی ایچ سی کے چیئرمین کے دفتر میں کام کرنے والے ایک ذمے دار کو حراست میں لیا گیا ہے۔

فوری طور پر ان پر عاید کیے گئے رشوت لینے کے مبینہ الزام کی مزید تفصیل معلوم نہیں ہو سکی ۔وزارت رسد کے حکام نے بھی اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ مینا کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف اب پبلک پراسیکیوٹر مزید تحقیقات کریں گے۔

سابق فوجی جنرل علا فہمی ایف آئی ایچ سی کے چیئرمین ہیں ۔ مصر کی یہ سرکاری کمپنی اشیائے خوردنی کی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر خرید کی ذمے دار ہے اور یہی سویا بین اور کینولا کے تیل کے علاوہ چینی وغیر ہ کی خرید کے لیے ٹینڈرز جاری کرتی ہے لیکن حالیہ برسوں کے دوران میں حکومت نے اس کا اشیائے خوردنی کی خرید میں کردار کم کردیا ہے اور اس کے بجائے ایک اور سرکاری ادارے جنرل اتھارٹی برائے رسد خوردنی اجناس (جی اے ایس سی) کو یہ ذمے داری سونپ دی گئی ہے۔

مینا نے رشوت دینے والی تجارتی کمپنیوں کے نام نہیں بتائے لیکن اس کا کہنا ہے کہ خوراک کی اشیاء مہیا کرنے والی یہ بڑی کمپنیاں ہیں۔انھوں نے مبینہ طور پر مذکورہ عہدے داروں کو 20 لاکھ مصری پاؤنڈ ز ( 112000 ڈالرز) سے زیادہ رقم ’’ خریداری کے آرڈرز ‘‘ کے حصول اور رقوم کی بروقت ادائی میں سہولت مہیا کرنے میں مدد دینے کے لیے ادا کی تھی۔

واضح رہے کہ مصر دنیا میں گند م کا بڑا درآمد کنندہ ملک ہے اور وہ کھانا پکانے کے تیل کا بھی ایک بڑا خریدار ہے۔جنرل اتھارٹی برائے رسد خوردنی اجناس ہر سال گندم کی درآمد پر ڈیڑھ ارب ڈالرز صرف کرتی ہے اور پھر زرتلافی پروگرام کے تحت کم آمدنی والے لاکھوں مصریوں کو ارزاں نرخوں پر روٹی مہیا کرتی ہے۔

یادرہے کہ 2016ء میں پارلیمان کی ایک تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ بیس لاکھ ٹن خرید کردہ گندم کا وجود وزارت ِ رسد کے صرف کاغذات میں تھا اور حقیقت میں مصر نے بیرون ملک سے گندم کی یہ مقدار خرید ہی نہیں کی تھی۔اس اسکینڈل کی تفصیل منظرعام پر آنے کے بعد اس وقت کے وزیر رسد خالد حنفی کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا اور حکومت نے کسانوں کو گندم پر دی جانے والی سب سڈی ختم کردی تھی۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے گذشتہ سال اپنی تحقیقات میں مصر کے سرکاری حکام اور خوردنی اجناس کے تاجروں کے درمیان مالی لین دین کے ایک گٹھ جوڑ کا انکشاف کیا تھا۔ یہ تاجر سرکاری حکام کو بھاری رقوم رشوت میں دیتے تھے اور اس کے عوض ان سرکاری حکام سے یہ یقین دہانی حاصل کرتے تھے کہ ان کی درآمد کردہ گندم کی بوریوں کا کڑا معائنہ نہیں کیا جائے گا اور انھیں کسی حیل وحجت کے بغیر پاس کردیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں