کیا امریکا نے خطے میں پاسدارانِ انقلاب کی القدس بریگیڈ سے پنجہ آزمائی شروع کردی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اہواز کی جمہوری یک جہتی پارٹی کے مشیر اور سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر کریم عبدیان بن سعید کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فوجیوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس بریگیڈ سے پنجہ آزمائی شرو ع کردی ہے اور خطے میں ایران کے مخالف ممالک میں فوجی ،لاجسٹیکل اور انٹیلی جنس مدد کے ذریعے القدس بریگیڈ کا راستہ روکا جار ہا ہے۔

واشنگٹن میں مقیم بنی سعید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ایران کے جوہری معاہدے کے بارے میں پیش کردہ بارہ شرائط بڑی جامع ہیں۔یہ خطے میں ایران کی مداخلت کا ردعمل ہیں اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو درپیش ایرانی خطرے سے نمٹنے کے لیے بھی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکا کی نئی حکمت عملی اور ایران پر عاید کی جانے والی نئی پابندیوں سے رجیم کی مظاہرین کو دبانے کے لیے صلاحیتیں بھی کم زور پڑیں گی۔امریکا کی نئی حکمت عملی سے ایران کے جوہری بم کے ڈیزائن کے منصوبے میں عدم شفافیت سے نمٹا جاسکے گا۔امریکا اس منصوبے کی تمام تفصیل سے آگاہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایران نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنی حساس اور فوجی تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی اس حکمتِ عملی سے ایران میں زیر حراست امریکیوں کی رہائی ممکن بنائی جاسکے گی،عراق میں ایرانی فوجیوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا جاسکے گا اور ایران کو دہشت گرد تنظیموں کو امداد مہیا کرنے سے روکا جاسکے گا۔

امریکا کی پاسداران انقلاب اور ایرانی رجیم کے اداروں پر نئی پابندیوں سے ملک میں ہونے والے مظاہروں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟اس حوالے سے بنی سعید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی آمدن کا بڑا ذریعہ تیل کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے،اس کی تیل کی برآمدات پر پابندیوں سے رجیم کی جبر واستبداد کی صلاحیتیں کم زور ہوں گی کیونکہ حکومت مظاہرین کو دبانے کے لیے تیل کی آمدن کو استعمال کرتی ہے، پاسداران انقلاب اور اس کی ملیشیاؤں کو آلات اور ہتھیار خرید کرنے کے لیے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے وسائل مہیا کیے جاتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ایران اب خطے کے ممالک بالخصوص شام ، یمن اور عراق میں مداخلت کو جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے گا کیونکہ ایران وسائل محدود ہوجانے کی وجہ سے ان ممالک میں لڑنے والے ہزاروں فوجیوں اور شیعہ ملیشیاؤں کے جنگجوؤں کی تنخواہیں ادا نہیں کر پائے گا‘‘۔

ایران میں جاری حالیہ مظاہروں کے بارے میں بنی سعید نے کہا کہ ایرانی عوام عالمی برادری کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ’’اصلاح پسند اور سخت گیر ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور وہ حکومت مخالف مظاہرین کو کچلنے کے لیے ایک ہی جیسے حربے آزماتے ہیں۔اگر ایرانی پُرامن انداز میں جمہوریت اور جمہوری آزادیوں کے لیے اپنے احتجاجی مظاہرے جاری رکھتے ہیں تو وہ مزید بین الاقوامی حمایت اور توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں