سلامتی کونسل کی جنوبی سوڈان پر پابندیوں میں توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سلامتی کونسل نے سوڈان پر پابندیوں میں وسط جولائی تک توسیع کی منظوری دی ہے۔ اس سے قبل سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان کے چھ اہم رہ نماؤں کے سفر پر پابندی اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں سوڈان پر پابندیوں میں توسیع کا بل امریکا کی طرف سے پیش کیا گیا۔ اس پر رائے شماری کےدوران 9 ممالک نے پابندیوں میں توسیع کی حمایت کی جب کہ چھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ کسی ملک کی طرف سے اس کی مخالفت میں ووٹ ںہیں ڈالا گیا۔

قبل ازیں اقوام متحدہ میں امریکی خصوصی ایلچی نیکی ہیلی نے ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’موجودہ حالات میں امریکی انتظامیہ کا جنوبی سوڈان کے حوالے سے صبر کاپیمانہ لبریز ہوچکا ہے‘۔

سلامتی کونسل میں سوڈان کے خلاف پیش کردہ بل پررائے شماری سے قبل نیکی ہیلی نے کہا تھا کہ سوڈان میں متحارب فریقین کے محاسبے کے لیے پوری عالمی برادری کو ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر جنوبی سوڈان میں 30 جون تک لڑائی ختم نہیں ہوتی تو سلامتی کونسل لڑائی میں شامل رہ نماؤں اور ان کے اثاثوں پر نئی پابندیاں عاید کرے گی۔ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں وزیر دفاع کول مانیانگ، سابق آرمی چیف پول مالونگ، وزیر اطلاعات مائیکل لویٹ، نائب وزیر دفاع برائے لاجسٹک امور مالک روبین ریاک رنیجو شامل ہیں۔ سلامتی کونسل نے ان عہدیداروں پر عارضی طورپر سفری پابندی عاید کرتے ہوئے انہیں تیس جون تک لڑائی ختم کرنے کی مہلت دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں