.

فرانس کی عراق میں فرانسیسی داعشی خاتون کے ٹرائل کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے وزیرخارجہ جون ایف لوڈریان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراق میں ’داعش‘ سے تعلق کے الزام میں گرفتار فرانسیسی خاتون شہری کے خلاف مقدمہ چلانے پر ان کے ملک کو کوئی اعتراض نہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق فرانسیسی وزیرخارجہ نے کہا کہ عراق میں ٹرائل کا سامنا کرنے والی ’میلینا بوغدیر‘ پر داعش سے تعلق کا الزام عاید کیا گیا ہے اور عراق اس پر مقدمہ چلا رہا ہے تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

نیوز چینل ’ ایل سی ای‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لوڈریان نے کہا کہ بوغدیر ایک لڑاکا جنگجو ہے اور اس نے 2016ء میں شمالی عراق میں لڑائی میں بھی حصہ لیا۔ اس لیے جہاں اس نے غیرقانونی سرگرمیوں کا ارتکاب کیا ہے وہیں اس کا ٹرائل بھی ہونا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں فرانسیسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک فطری بات ہے کہ عراق میں لڑنے والی عورت کا عراق ہی کی عدالتوں میں ٹرائل کیا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ ’میلینا بوغدیر‘ کو عراقی فوج نے 2017ء کے موسم گرما میں موصل شہر سے حراست میں لیا تھا۔ رواں سال فروری میں اسے عراق میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کی پاداش میں مقدمہ چلایا گیا اور سات ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا پوری ہونے کےبعد اسے ملک بدر کیے جانے کا امکان تھا مگر عراق کی ایک اپیل کورٹ نے اس کے مقدمہ پرنظرثانی کی اور نئے مقدمہ میں اس پر الزام ہے کہ وہ یہ جانتے ہوئے عراق میں آئی تھیں اس کا شوہر ’داعش‘ کا جنگجو ہے۔

ستائیس سالہ بوغدیر چار بچوں کی ماں ہیں۔ اس کے تین بچوں کو فرانس بھیج دیا گیا ہے اورخود اس پر دہشت گرد تنظیم کے ساتھ وابستگی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لینے کے الزام میں مقدمہ چلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تین جون کو اس کے کیس کی سماعت کا آغاز ہوگا۔