.

پابندیوں سے قبل ایران کی جانب سے تیل کی فروخت میں تیزی اور مفت شِپمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آئل ریفائننگ کی صنعت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ہندوستانی کمپنی "بھارت پٹرولیم" نے ایرانی نیشنل آئل کمپنی سے دس لاکھ بیرل اضافی خام تیل طلب کیا ہےجو جون میں فراہم کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران کو امریکا کی جانب سے سخت پابندیوں کے خطرے کا سامنا ہے۔

گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی کے اعلان کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئی۔ ٹرمپ نے تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کے احکامات بھی جاری کیے۔

ان میں بعض پابندیوں کا اطلاق چھ اگست سے ہو گا جب کہ بقیہ پابندیاں بالخصوص پٹرولیم سیکٹر پر پابندیاں چار نومبر سے لاگو ہوں گی۔

ایران 2018-19 کے درمیان بھارتی آئل ریفائنریز کو کی جانے والی شپمنٹ کا کوئی معاوضہ نہیں لے گا۔ اس کے نتیجے میں ایران سے خام تیل خریدنے کے اخراجات خطے میں خام تیل کے دیگر فروخت کنندگان کے مقابلے میں بڑی حد تک کم ہو جائیں گے۔

چین کے بعد بھارت ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار اور اُن چند ممالک میں سے ہے جنہوں نے مغربی پابندیوں کے سابقہ دور کے دوران بھی تہران کے ساتھ تجارت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی دہلی صرف اُن پابندیوں پر عمل درامد کرتا ہے جو اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی جاتی ہیں۔