کھلاڑیوں کا دوسرے ملک میں روزہ نہ رکھنا شرعی حکم ہے: سعودی محقق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے شرعی امور کےایک محقق ڈاکٹر رضوان الرضوان نے کہا ہے کہ روس میں انٹرنیشنل فٹ بال کپ کے موقع پر مسلمان کھلاڑیوں کو روزہ رکھنے کی شریعت میں مکمل اجازت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس میں کھیل کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑی از روئے شریعت مسافر ہیں اور قرآن پاک مسافر کو روزہ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی محقق کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات کسی کے فتوے کی بنیاد پرنہیں کہہ رہے ہیں بلکہ شریعت میں کے ایک حکم کی بات کرتے ہیں۔ قرآن پاک کی نص موجود ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسافر اور مریض کو روزہ ترک کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

انہوں نے دلیل کے طورپر سورۃ البقرۃ کی آیت "أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ" [ یہ گنتی کے دن ہیں۔ پس تم میں سے جو کوئی مریض یا مسافر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں ان کی گنتی پوری کر لے، جو فدیہ دینے کی طاقت رکھیں تو ایک مسکین کو کھانا کھلائیں، جو زیادہ کرے تو وہ اس کے حق میں بہتر ہے، اور اگر تم روزہ رکھو تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو] پیش کی۔

سعودی محقق کا کہنا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے اور قرآن وسنت میں اس کے حق میں اور بھی دلائل ہیں۔ ہم فتوے کے اختلافی امور میں نہیں جاتے۔ حالت سفر میں روزہ افطار کرنے کی اجازت شریعت میں اللہ تعالیٰ نے دے رکھی ہے، جس میں کوئی دو رائے نہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سفر چاہے دو دن، کم یا زیادہ وقت کا ہو دین اسلام نے مسافر کو روزے کی رخصت دی ہے۔ سفر میں نماز قصر یا جمع صلاحتین کے ساتھ روزہ چھوڑنے کی مکمل اجازت ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایک کویتی عالم دین مبارک البذالی کی طرف سے ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے لیورپول کے کھلاڑی محمد صلاح کے کھیل کے دوران زخمی ہونے کو اللہ کی طرف سے سزا قرار دیا تھا۔ ان کاکہنا تھا کہ محمد صلاح ایک مسلمان ہے اور اس نے روس میں جاری فٹ عالمی ٹورنامنٹ کے موقع پر روزہ چھوڑ دیا جس پر اللہ نے اسے یہ سزا دی ہے۔ ان کے اس فتویٰ نما بیان پر سوشل میڈیا پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں