اقوام متحدہ ایلچی کی الحدیدہ سے حوثیوں کےانخلا پر بات چیت کے لیے صنعاء آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھ حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ صنعاء میں ہفتے کے روز پہےچص ہیں۔ وہ حوثیوں کی قیادت سے ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے امن کوششوں کی بحالی پر بات چیت کریں گے۔

مارٹن گریفتھ نے یمن میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے گذشتہ جمعرات کو اپنا نیا مشن شروع کیا تھا۔انھوں نے جنوبی شہر عدن میں یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اور ان کی کابینہ میں شامل بعض وزراء سے بات چیت کی تھی۔

سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسٹر گریفتھ صنعاء میں حوثی ملیشیا کی حکومت اور ان کی غیر تسلیم شدہ باغی حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات کریں گے اور ان سے امن مذاکرات کی بحالی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔وہ ان سے بات چیت کے بعد سات جون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنا نیا امن منصوبہ پیش کریں گے۔

تاہم ان کی ملاقات کے ایجنڈے میں ساحلی شہر الحدیدہ کی صورت حال کا موضوع سرفہرست ہوگا۔ وہ حوثیوں کو الحدیدہ شہر سے انخلا پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گی اور ان پر زور دیں گے کہ وہ اس کی بندرگاہ کا کنٹرول اقوام متحدہ کے حکام کی نگرانی میں دے دیں۔

عالمی ایلچی صنعاء کا یہ دورہ ایسے وقت میں کررہے ہیں جب یمنی فوج الحدیدہ شہر سے صرف دس سے پندرہ کلومیٹر دور رہ گئی ہے اور اس نے ارد گرد کے علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔مقامی یمنی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا شہریوں کو الحدیدہ سے نکلنے سے روک رہی ہے جس کے بعد ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ حوثی جنگجو ان شہریوں کو یمنی فوج کے خلاف لڑائی میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں