بشارالاسد شمالی کوریا کےلیڈر کِم جونگ اُن سے ملاقات کے لیے کیوں بے تاب ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن سے ملاقات کے لیے پیانگ یانگ جانا چاہتے ہیں ۔شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو ان کے اس دورے کی اطلاع دی ہے۔

کورین سنٹرل نیوز ایجنسی ( کے سی این اے) کے مطابق بشارالاسد نے دمشق میں 30 مئی کو کہا تھا کہ ’’ میں ڈی پی آر کے ( عوامی جمہوریہ کوریا) کے دورے پر جا رہا ہوں اور ہز ایکسی لینسی کِم جونگ اُن سے ملاقات کروں گا‘‘۔انھوں نے یہ بات دمشق میں شمالی کوریا کے نئے سفیر من جونگ نام سے اسنادِ سفارت وصول کرتے ہوئے کہی تھی۔شامی ایوان صدر نے فوری پر اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

صدر بشار الاسد نے کہا کہ ’’ دنیا جزیرہ نما کوریا میں رونما ہونے والے تاریخی واقعات کا خیرمقدم کرتی ہے۔یہ واقعات کِم جونگ اُن کی غیرمعمولی سیاسی دانش اور عاقلانہ قیادت کا نتیجہ ہیں۔مجھے یقین ہے کہ وہ حتمی فتح حاصل کرلیں گے اور کوریا کے اتحاد کو حقیقت کا روپ دے لیں گے‘‘۔

بشارالاسد کا کہنا تھا کہ ’’شامی حکومت شمالی کوریا کی قیادت کی تمام پالیسیوں اور اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے‘‘۔

واضح رہے کہ شام اور شمالی کوریا کے درمیان اچھے دوطرفہ تعلقات استوار ہیں اور اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے شمالی کوریا پر شام کو کیمیائی ہتھیار مہیا کرنے کا الزام بھی عاید کیا تھا لیکن شمالی کوریا نے اس کی تردید کی تھی۔

اس وقت دونوں ممالک کو بین الاقوامی تنہائی کا سامنا ہے۔ شمالی کوریا پر جوہری تجربات کے ردعمل میں بین الاقوامی پابندیاں عاید ہیں ۔اس کے اتحادی شام کو گذشتہ سوا سات سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں اسدحکومت کے مخالفین کے خلاف سفاکانہ فوجی کارروائیوں پر مختلف پابندیوں کا سامناہے۔

اگر بشار الاسد جلد شمالی کوریا کے دورے پر جاتے ہیں اور کِم جونگ اُن سے ملاقات کرتے ہیں تو پیانگ یانگ میں کسی غیر ملکی لیڈر کی کِم سے یہ پہلی ملاقات ہوگی۔2011ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کِم نے شمالی کوریا میں کسی اور سربراہ ریاست سے ملاقات نہیں کی ہے۔

اس سال کے آغاز کے بعد سے کِم جونگ اُن نے چین اور جنوبی کوریا کے صدور سے مختلف سفارتی ملاقاتیں کی ہیں ۔ وہ 12 جون کو سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے پہلے یہ طے شدہ ملاقات منسوخ کردی تھی لیکن اب وہ دوبارہ سفارتی کوششوں کے بعد کِم جونگ سے ملاقات پر آمادہ ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں