.

سعودی عرب:اسلامی امور کے نئے وزیر فقہ کے ماہر اور معتدل سماجی فکر کے حامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرماں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہفتے کو جاری کردہ ایک شاہی فرمان کے ذریعے ڈاکٹر شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز بن عبدالرحمان آل الشیخ کو اسلامی امور ، دعوہ اور ارشاد کا وزیر مقرر کیا ہے۔

ڈاکٹر آل الشیخ اس سے پہلے سعودی عرب میں مختلف محکموں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔وہ اسلامی فقہ میں مہارت کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ سعودی جنرل پریزیڈینسی میں ڈائریکٹر جنرل تحقیقات اور سینیر علماء کی کونسل میں اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل دوم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

وہ اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے حامل ہیں اور انھوں نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی سے اسلامی فقہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔وہ سعودی عرب کے کمیشن برائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔انھوں نے مذہبی پولیس کے نام سے معروف اس محکمے میں متعدد اصلاحات کی تھی اور اس کے اہلکاروں کو لوگوں کا پیچھا کرنے سے روکا تھا۔انھوں نے گذشتہ برسوں کے دوران میں سیاسی اسلامی گروپوں کے بارے میں میڈیا میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیشن میں ان کی اصلاحات اور اس کے قواعد وضوابط میں ترامیم کے نتیجے ہی میں ہزاروں سعودی خواتین کے لیے ملازمتوں کی راہ ہموار ہوئی ہے اور اس سے سعودی خواتین میں بے روز گاری کی شرح میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

وہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی الریاض کی گورنری کے زمانے میں ان کے مشیر رہے تھے۔تب سعودی فرماں رو ا شہزادہ سلمان ہوتے تھے اور ابھی ولی عہد بھی مقرر نہیں ہوئے تھے۔ ڈاکٹر آل الشیخ نے اس ذمے داری سے سبکدوشی کے بعد دعوت کی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں ۔

امورِ خواتین

ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ اسلام میں خواتین سے متعلق امور اور عمومی اسلامی امور کے ماہر سمجھتے جاتے ہیں ۔وہ اس موضوع پر اعتدال پسند نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ وہ سعودی عرب میں خواتین کی ضروریات کی اشیاء والے اسٹورز میں خواتین ہی کے کا م کرنے کے مؤید رہے ہیں۔انھوں نے سعودی خواتین کی اس شعبے میں کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی تھی تاکہ صارف خواتین اپنی ضرورت کی اشیاء دکان دار خواتین سے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر خرید کرسکیں۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیشن کی مکہ شاخ کے سابق سربراہ الغامدی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کو اسلامی امور کا وزیر مقرر کرنے کا فیصلہ سعودی عرب کی اعتدال پسند حکمت ِ عملی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔یہ ایک درست اور بروقت فیصلہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’شیخ عبداللطیف آل الشیخ ان چند ممتاز شخصیات میں سے ایک ہیں جنھوں نے انتہاپسندی کا حوصلے اور حب الوطنی سے مقابلہ کیا اور اس سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں‘‘۔

مخلوط اجتماعات سے متعلق نقطہ نظر

ڈاکٹر آل الشیخ اپنے بعض انٹرویو ز میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ بعض شرائط کے ساتھ اور حدود قیود میں رہتے ہوئے مخلوط اجتماعات کی اجازت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اسلامی شریعت مخلوط اجتما ع پر مکمل پابندی عاید نہیں کرتی ہے بلکہ وہ مرد وعورت کے آزادانہ اختلاط پر پابندیاں عاید کرتی ہے‘‘۔

انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جب اسلامی علماء مخلوط اجتماع کی ممانعت کی بات کرتے ہیں تو وہ کسی قسم کی قدغن کے بغیر مرد وزن کے اختلاط کی بات کرتے ہیں ۔اس کو غیر شائستہ مخلوط اجتماع بھی کہہ سکتے ہیں‘‘۔

ڈاکٹر آل الشیخ کا یہ نقطہ نظر اگرچہ سخت گیر علماء کے بیانیےسے مختلف ہے مگر ان کی دانش مندی اور علم وتفقہ کی بنیاد پر ان کا بے حد احترام کیا جاتا ہے اور ان کی رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ان کے تقرر کے بعد خواتین سے متعلق بہت سے امور کے بارے میں مباحث کا بھی خاتمہ ہوجائے گا ۔سعودی عرب اس وقت اصلاحات اور تبدیلی کے جس عمل سے گزر رہا ہے،اس تناظر میں ان کے تقرر کو ایک خوش آیند فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔