انقلاب کے آغاز میں خمینی کے حکم پر پھانسی کی سزائیں دی گئیں: ایرانی عالم دین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد چن چن کر سیاسی مخالفین اور انقلاب کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو ماورائے عدالت موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ہے۔

اسی حوالے سے ایک تازہ انکشاف ایک ایرانی اسلامی اسکالر محسن کدیور نے اپنی ویب سائیٹ پر شائع کیے گئے ایک مضمون میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انقلاب کے ابتدائی عرصے میں بڑی تعداد میں مخالفین کو ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خمینی کے حکم پر تختہ دار پر لٹکایا گیا۔

کدیور کا مزید کہنا ہے کہ ابتدائی عرصے میں ایران میں سزائے موت کے نفاذ کی ذمہ داری خمینی کے مقرب مذہبی لیڈر صادق خلخالی کو سونپی گئی تھی اور وہ تنہا سزائے موت کے پروانے جاری کرتے تھے۔

علامہ کدیور نے اس وقت کے وزیر انصاف اسد اللہ مبشری کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہےجن کی موجودگی میں شاہ ایران کے دور کے وزیراعظم کے ٹرائل کا ذکر ہے۔

ایرانی اپوزیشن رہ نما جو امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں کا کہنا ہے کہ ایرانی بادشاہ کے وزیراعظم کو جیل میں موت کے گھاٹ اتارے جانے کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسے عدالت میں مقدمہ چلانے کے بعد سزا دی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ انقلاب کے آغاز میں مھدی ھادوی ایران کے پراسیکیوٹر جنرل تھے۔ انہوں نے بھی سابق وزیراعظم ھوید کے ٹرائل کی تکمیل سے قبل ہی اسے موت کے گھاٹ اتارے جانے کی توثیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ھویدا کے قتل کےحوالے سے 1979ء میں وضع کردہ قوانین کی پاسداری بھی نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں