لیبیا میں دو ایرانی عسکری مشیروں کی ہلاکت کی تفصیلات

ایرانی مشیروں کے قتل میں موساد کے ملوث ہونے کا شبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افریقی ملک لیبیا کےسابق مرد آہن کرنل معمر قذافی کے خلاف بغاوت اور ان کے قتل کے بعد ایران نے لیبیا میں اپنی مداخلت میں مزید اضافہ کردیا۔ لیبیا میں ایران کے قدم جمانے کے کئی محرکات ہیں جن میں تیل کی دولت سے مالا مال ملک میں سیاسی افراتفری سے فایدہ اٹھا کر خطے میں ایرانی نفوذ میں اضافہ کرنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کی سرزمین پر حال ہی میں دو ایرانی عسکری مشیر ہلاک ہوئے۔ ان ہلاکتوں نے لیبیا میں ایران کی عسکری مداخلت ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے۔

ایران ایک طرف مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے خلاف محاذ کو مزید گرم کرنے کے لیے شام میں اپنا اثرو نفوذ بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف افریقی ملکوں میں بھی اپنے پنجے گاڑھ رہا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل خطے میں ایکا ایسا ملک ہے جس کی سرحدوں کا تعین نہیں اور وہ اپنی سرحدوں کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔ یوں تہران اسرائیل کی علاقے میں توسیع پسندی کی آڑ میں اپنی توسیع پسندی کو آگے بڑھا رہا ہے۔

دوسری طرف بعض ذرائع ابلاغ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان افریقی ملکوں میں محاذ آرائی کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ دونوں ملکوں کے سفارت کاروں، سیکیورٹی عہدیداروں، سیاسی رہ نماؤں اور تاجروں کی لیبیا، تیونس اور مالٹا جیسے ملکوں میں خفیہ چپقلش کی خبریں بھی آچکی ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے دو سینیر عسکری مشیر جنوبی لیبیامیں لڑائی کے دورن ہلاک ہوگئے۔

ایک ذمہ دار سیکیورٹی ذریعے نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایاکہ اسرائیلیوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر کی لیبیا میں آمد پر نظر مرکوز کر رکھی تھی۔ ایران کے لیے تیونس اور دوسرے افریقی ملکوں تک رسائی کے لیے لیبیا ایک سنہری گذرگاہ کا درجہ رکھتا ہے۔ دونوں ایرانی عہدیداروں کو نامعلوم مسلح افراد نے ایک چھوٹے سے قصبے میں ہلاک کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی عسکری مشیروں کی ہلاکتوں کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ادارے’موساد‘ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

لیبیا میں دو ایرانی عسکری مشیروں کی ہلاکت نے لیبیا میں ایرانی پروگرام کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کیا ہے۔ اس سے قبل ایران شام، عراق، لبنان اور یمن میں اپنا فساد پھیلانے، فرقہ واریت کو ہوا دینے اور ان ملکوں میں اپنا اثرو نفوذ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

لیبیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی عسکری مشیروں کی آمد کا مقصد لیبیا اور تیونس کی سرحد پر قدرتی وسائل بالخصوص یورینیم کےذخائر کا کھوج لگانا تھا۔

ایران جنوبی لیبیا میں سرگرم شدت پسند گروپوں کی معاونت سے ٹرکوں پر خام یورینیم لاد کر تہران لانے کی خفیہ اسکیم پرعمل پیرا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں