پروفیسر طارق رمضان کے خلاف کیس میں نیا موڑ ، اب عدالت تحقیقات کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس میں فروری سے دو خواتین کی عصمت ریزی کے الزام میں زیر حراست پروفیسر طارق رمضان کے کیس میں ایک نیا موڑ آیا ہے اور ا ب ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کی عدالت میں جج صاحبان تحقیقات کریں گے۔

یہ توقع کی جارہی ہے کہ دینیات کے پروفیسر طارق رمضان اب اپنے دفاع کو تبدیل کریں گے لیکن ان کے خلاف ایک تیسری فرد الزام کا بھی امکان ہے۔ان کے خلاف ایک اور عورت مونیا آر نے بھی ناجائز جنسی تعلق کے سنگین الزامات عاید کیے ہیں۔

چالیس سالہ مونیا آر نے یہ الزام عاید کیا ہے کہ طارق رمضان کئی ماہ تک اس کی عزت لوٹتے رہے تھے۔ان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والی پہلی دونوں عورتوں نے صرف ایک ایک مرتبہ عصمت ریزی کا الزام عاید کیا تھا۔

اگر عدالت میں مقدمے کی سماعت کے موقع پر 55 سالہ طارق رمضان یہ اقرار کر لیتے ہیں کہ انھوں نے مونیا سے ناجائز جنسی تعلقات استوار کیے تھے تو پھر ان سے یہ سوال ہوسکتا ہے کہ یہ واقعات کن حالات میں اور کیسے پیش آئے تھے۔مصری نژاد سوئس پروفیسر اپنے خلاف عاید کردہ تمام الزامات کی اس سے پہلے تردید کرچکے ہیں۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق مونیا نے زارا کا تیارکردہ سیاہ رنگ کا لباس تفتیش کاروں کے حوالے کیا ہے۔اس پر مبینہ طور پر طارق رمضان کے ڈی این اے کے آثار موجود تھے۔ مونیا نے فروری 2013ء سے جون 2014ء تک پیرس ، روئیسی ، للی ، لندن اور برسلز کے ہوٹلوں میں طارق رمضان پر نو مرتبہ جنسی اختلاط کے الزامات عاید کیے ہیں۔

باقی دونوں درخواست گزاروں کی طرح مونیا نے بھی یہ الزام عاید کیا ہے کہ طارق رمضان نے اس کو زبانی اور جسمانی طور پر ڈرایا دھمکایا تھا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں