.

ایران حرکتیں بدل لے یا معاشی انہدام کا سامنا کرے: امریکا کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خزانہ میں دہشت گردی اور مالی اسمگلنگ کے انسداد کی سکریٹری سیگال مینڈلکیر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی حکمت عملی میں یہ شامل ہے ہ "ہم ایرانی نظام پر غیر مسبوق نوعیت کا مالیاتی دباؤ ڈالیں گے"۔

منگل کے روز واشنگٹن میں ایک انسٹی ٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے سیگال کا کہنا تھا کہ "امریکا اب ایران کو واضح آپشن دے گا ... یا تو وہ دہشت گردی اور عدم استحکام کی سپورٹ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق اپنے تصرفات تبدیل کر لے اور یا پھر اقتصادی طور پر ڈھیر ہو جانے کے لیے تیار رہے"۔

تقریبا ایک ماہ قبل ایرانی جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے بعد سے ہی واشنگٹن نے ایران پر پابندیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ امریکی حکومت کی جانب سے سامنے لائے جانے والے انکشافات کے مطابق عرب ممالک میں بعض کمپنیاں ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے کالے دھن کو سفید بنا رہی تھیں اور اس رقم کو حزب اللہ ملیشیا تک پہنچانے میں آسانی کے لیے عراق میں ایک بینک کو استعمال کیا جا رہا تھا۔

امریکی وزارت خزانہ کی سکریٹری نے اپنے خطاب میں باور کرایا کہ ایران لبنانی تنظم حزب اللہ کو سالانہ 70 کروڑ ڈالر کی سپورٹ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی شہری ہوابازی کی کمپنیوں مثلا ماہان وغیرہ کو ایرانی جنگجوؤں اور ہتھیاروں کے شام منتقل کرنے کے واسطے استعمال کیا جاتا ہے۔

سیگال کے مطابق ایران بیرون ملک فرضی کمپنیاں قائم کرنے پر کام کر رہا ہے تا کہ اپنی مخلتف سرگرمیوں پر پردہ ڈال سکے۔ ان سرگرمیوں میں دہشت گردی اور عدم استحکام پھیلانے کی سپورٹ، میزائلوں کا ڈپو قائم کرنا اور ان میزائلوں پر جوہری ہتھیار نصب کرنا شامل ہے۔

امریکی خاتون عہدے دار نے زور دے کر کہا کہ ایران ان تمام سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے اپنے مرکزی بینک سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔ مرکزی بینک ایرانی پاسداران انقلاب اور القدس فورس کی دہشت گرد کارروائیوں کو آسان بنا رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی وزارت خزانہ کی سکریٹری کے خطاب میں عالمی ملکوں کی حکومتوں اور نجی کمپنیوں کو خصوصی طور پر ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کے فرضی نیٹ ورک کی لپیٹ میں آنے سے بچیں اور ایران میں کمپنیوں اور افراد کے ساتھ معاملات میں موجود بڑے خطرے کو سمجھیں۔ امریکا نے یورپی ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات اور اسے تجارتی اور مالی پشت پناہی فراہم کرنے کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وہ ہر ایسے شخص اور کمپنی پر بھی پابندی عائد کرے گا جو اُس کمپنی یا فرد کے ساتھ معاملات کرے گا جن پر امریکا نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف اپنی پالیسیوں کے واضح نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ صرف جوہری پروگرام کی حد تک محدود نہیں بلکہ اس میں بیلسٹک میزائل پروگرام، دہشت گردی کی سرپرستی اور عرب اور پڑوسی ممالک کے امور میں مداخلت بھی شامل ہے۔