.

ایران کا یورینیم افزودگی کا منصوبہ ’’سُرخ لکیر‘‘ کے نزدیک ہے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا عالمی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتا ختم ہونے کی صورت میں یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت بڑھانے کا اعلامیہ ’’سُرخ لکیر‘‘ کے نزدیک پہنچ چکا ہے۔

ژاں وائی ویس لی دریان نے یورپ 1 ریڈیو سے بدھ کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ سُرخ لکیر سے کھیلنا ہمیشہ ہی خطرناک رہا ہے‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ جوہری سمجھوتے کو بچانے کا منصوبہ ابھی زیرِ عمل ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی صدر عمانو ایل ماکروں سے بات چیت کے ایک روز بعد یہ بیان جاری کیا ہے۔ نیتن یاہو نے فرانس پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کی ’’علاقائی جارحیت‘‘ پر توجہ مرکوز کرے اور اس سے جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہہ دے لیکن وہ اپنی اس گل افشانی گفتار سے فرانس کو ایران سے جوہری سمجھوتے سے علاحدگی پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ جولائی 2015ء میں ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔اس کے بعد سے ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر سے کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔صدر ٹرمپ نے اس سمجھوتے کو مکمل ناکام قرار دیا تھا اور اس کی جگہ ایران سے ایک اور ترمیمی سمجھوتے پر زور دیا تھا۔