.

امریکی پابندیاں: بوئنگ کی طیارے ایران کےحوالے کرنے سے معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے ایرا ن کو طیارے دینے سے معذرت کر لی ہے۔اس نے یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے نفاذ کے بعد کیا ہے۔

بوئنگ کے ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہم نے ایران کو کوئی طیارہ مہیا نہیں کیا ہے۔اس وقت ہمارے پاس ایران کو طیارے بیچنے کا کوئی لائسنس بھی نہیں ،اس لیے ہم کوئی طیارہ ایران کے حوالے نہیں کریں گے‘‘۔

ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ہمارے پاس ایران کو طیارے مہیا کرنے کے لیے کوئی پرانا آرڈر موجود نہیں ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ایران سے جولائی 2015ء میں طے شدہ سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اس کے بعد ان کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف مختلف نوعیت کی نئی پابندیاں عاید کردی ہیں۔ان میں محکمہ خزانہ کی ایران کی فضائی کمپنیوں پر حال ہی میں عاید کردہ پابندیاں بھی شامل ہیں۔

بوئنگ نے اس سے قبل یہ کہا تھا کہ وہ ایران کے بارے میں امریکی انتظامیہ کی پالیسی کی حمایت کرے گی اور اس نے ایران کو طیارے حوالے کرنے کی تاریخ مؤخر کردی تھی لیکن اس نے طیاروں کی حوالگی سے متعلق براہ راست کچھ نہیں کہا تھا۔

واضح رہے کہ جوہری سمجھوتے کے نتیجے میں سابق صدر اوباما کی انتظامیہ نے ایران پر عاید پابندیاں ختم کردی تھیں ۔اس کے بعد بوئنگ اور ائیر بس سمیت طیارہ ساز کمپنیوں کو ایران سے کاروبار کے لیے امریکی محکمہ خزانہ سے لائسنس کے حصول کا پابندٹھہرایا گیا تھا۔

بوئنگ نے دسمبر 2016ء میں ایران ائیر کے ساتھ 16 ارب 60 کروڑ ڈالرز مالیت کے ایک سمجھوتے کا اعلان کیا تھا۔اس کے تحت اس نے ایران کو 80 طیارے فروخت کرنا تھے۔بوئنگ نے اپریل 2017ء میں ایران کی آسمان ائیر لائنز کو 30بوئنگ 737 طیارے فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔تین ارب ڈالرز مالیت کے اس سودے میں اس نے مزید 30 طیاروں کی فروخت کے حقوق بھی حاصل کیے تھے۔

گذشتہ ہفتے ایک امریکی ذریعے نے بتایا تھا کہ امریکا کی بڑی انجنئیرنگ کارپوریشن جنرل الیکٹرک 4 نومبر تک ایران میں اپنی تمام سر گرمیاں بند کردے گی اور ٹرمپ انتظامیہ کی وضع کردہ 180 دن کی ڈیڈ لائن کے مطابق اپنا بوریا بستر سمیٹ کر ایران سے واپس چلی جائے گی۔