البرٹ آئن سٹائن نے اسرائیل میں منصب صدارت کی پیشکش کیوں ٹھکرا دی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی شہرت یافتہ جرمن طبیعات دان البرٹ آئن سٹائن کو انسانی تاریخ میں ایک عبقری کے طور پر جانا جاہے۔ ان کے مخصوص سائنسی اور فلسفیانہ نظریات وعقائد نے انہیں وہ شہرت دوام عطا کی جو رہتی دنیا تک ان کی پہچان برقرار رکھے گی۔ انہوں نے سنہ 1921ء میں فزکس میں نوبل انعام حاصل کیا۔

آئن سٹائن کے والدین یہودی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ سنہ 1952ء میں البرٹ آئن سٹائن کوعبرانی ریاست [اسرائیل] کا منصب صدارت سونپنے کی پیش کش کی گئی جو انہوں نے یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ وہ اپنی شخصیت کو سیاست میں آلودہ نہیں کرنا چاہتے، نیز وہ عمر کے اس حصے میں کہ اب وہ اتنے بڑے عہدے کے تقاضے کماحقہ ادا نہیں کرسکیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ 9 نومبر 1952ء کا واقعہ ہے جب سابق اسرائیلی صدر حاییم ایزمین 77 سال کی عمر میں آنجہانی ہوگئے۔ وہ 1949ء سے اسرائیل کے صدر تھے مگر بڑھاپے نے اور بیماریوں نے انہیں زیادہ عرصہ اسرائیل کی سیاست میں زندہ رہنے کا موقع نہ دیا۔ اس وقت کی وزیراعظم ڈیوڈ گوریون کی حکومت نے منصب صدارت مشہور طبیعات دان آئن سٹائن کو سونپنے کی پیشکش کی۔ اسرائیل نے امریکا میں متعین اپنے سفیر ابا ایبان کے ذریعے یہ پیغام آئن سٹائن تک پہنچایا۔ آئن سٹائن اس وقت امریکی ریاست نیوجریسی کے برنسٹن شہر میں مقیم تھے۔

سنہ 1921ء کے دوران جرمن سائنس دان آئن سٹائن نے حاییم ایزمین کی معیت میں یروشلم میں اسرائیلی ریاست کےقیام کے لیے فنڈ ریزنگ مہم کی قیادت کی۔ آئن سٹائن فلسطینی اراضی کے دورے پربھی آئے اور القدس عبرانی یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب بھی کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ عبرانی یونیورسٹی کو علاقے میں یہودی کلچر اورتہذیب کے پھلنے پھولنے کا ذریعہ ثابت ہونا چاہیے۔

سنہ 1925ء کو انہوں نے اپنا نام اور تصاویر عبرانی یونیورسٹی کو فروخت کرنے کی اجازت دی۔

’کرسی صدارت‘ کی پیش کش کے ذریعے اسرائیلی حکومت آئن سٹائن کےا ن احسانات کا بدلہ چکانا چاہتی تھی جو آئزمین کے ساتھ اسرائیل کےقیام کے لیے فنڈ ریزنگ کی صورت میں کرچکے تھے۔ وزیراعظم بن گوریون نے آئن سٹائن کو نو قائم کردہ عبرانی ریاست کی قیادت سونپ کر اسے دنیا میں ایک علمی مقام دلانے کی کوشش کررہی تھی مگر آئن سٹائن نے اس پیش کو مسترد کردیا تھا۔

سترہ اکتوبر 1952ء کو اسرائیلی حکومت نے آئن سٹائن کو ایک مکتوب ارسال کیا جس میں انہیں اسرائیل کی شہریت اختیار کرنے اور صہیونی ریاست کا صدر بننے کی پیشکش کی گئی۔ اس مکتوب میں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ اسرائیلی حکومت آئن سٹائن کو اپنے سائنسی نظریات کی ترویج اور تحقیق وجستجو کی مکمل آزادی فراہم کرے گی۔

اس وقت آئن سٹائن کی عمر 73 سال تھی۔ انہوں نے اس منصب کو قبول کرنے پر معذرت کی ساتھ ہی جوابی مکتوب میں اسرائیلی حکومت کو لکھا کہ وہ انہیں گہرا دکھ ہے کہ وہ خود کو اس منصب کا اہل انہیں سمجھتے ہیں۔ وہ اچھے سے عبرانی بھی نہیں جانتے۔ ان کی پیرانہ سالی اور دیگر مسائل اسرائیل کے منصب صدارت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں رکاوٹ رہیں گے۔ اس کے باوجود انہوں نے یہودیوں اور عبرانی ریاست کے ساتھ اپنی اٹوٹ ہمدردی اور کامل وفاداری کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی اسرائیلی ریاست کے صدارت کا منصوب قبول نہ کرنے سے ان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں