.

اسد رجیم کی فضائی انٹیلی جنس کےڈائریکٹر کے بین الاقوامی وارنٹ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمنی کے پراسیکیوٹر جنرل نے انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی پاداش میں شام کے فضائی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جمیل حسن کے عالمی وارنٹ جاری کئے ہیں۔

جرمن اخبار ذ’دیر اسپیگل‘ کی رپورٹ کے مطابق شامی فضائی انٹٰیلی جنس ڈائریکٹر جمیل حسن اسد رجیم کے ایک اہم عہدیدار ہیں۔ جرمن پراسیکیوٹرنے ان پر سنگین نوعیت کے جنگی جرائم کے الزامات کے تحت تحقیقات کررہا تھا۔ ان پر سنہ 2011ء اور 2013ء کے دوران اسد رجیم کے خلاف بغاوت کچلنے کی آڑ میں دوران حراست قیدیوں کو اذیتیں دینے، آبر ریزی اور سیکڑوں افراد کو بے دردی سےموت کے گھاٹ اتارنے کے الزامات ہیں۔

جرمن پراسیکیوٹر جنرل کی ترجمان نے اخباری رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سےانکار کیا ہے۔

تاہم جرمنی میں مقیم ایک انسانی حقوق کے وکیل انور البنی نے کہا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل نے یورپی دستوری حقوق مرکز کو اسد رجیم کے دست راست سمجھے جانےوالے جمیل حسن کے وارنٹ گرفتاری کے بارے میں تصدیق کی ہے۔

جرمنی کی عدالتوں میں اسد رجیم کے جنگی جرائم کے خلاف مقدمات کے قیام میں انور البنی کا اہم کردار ہے۔ جمیل حسن کے خلاف جنگی جرائم کا دعویٰ بھی البنی کی جانب سے کیا گیا ہے۔

انور البنی کا کہناہے کہ جرمن پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے اسد رجیم کے عہدیدار کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا انصاف کی فتح، شامی قوم کی کامیابی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام میں اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں بشارالاسد کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کرائے جائیں گے۔

خیال رہے کہ میجر جنرل جمیل حسن کو طویل عرصے تک انٹیلی جنس کے شعبے میں خدمات انجام دینے پر ’بوڑھا قصاب‘ کا لقب دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی زیرنگرانی سیکیورٹی اداروں کے ذریعے اپوزیشن کی تحریک کچلنے کے لیے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مکمل اجازت دے رکھی تھی۔ ملک کے وسطی علاقے حمص سے تعلق رکھنے والے جمیل الحسن بشارالاسد کے علوی قبیلے سے تعلق رکھتےہیں۔