.

باکسر محمد علی کو معاف کرتا ہوں: ٹرمپ، اس کی ضرورت نہیں: وکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مشہور عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی [مرحوم] کو بعض عدالتوں کی طرف سے دی گئی سزا کو ختم کرتے ہوئے انہیں معاف کرنے پر غور کررہے ہیں۔ دوسری جانب مرحوم باکسر کے بعض کیسز کی پیروی کرنے والے ان کے وکیل نے کہا ہے کہ قانونی طورپر اب ٹرمپ کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سنہ 1964ء میں مشرف بہ اسلام ہونے والے محمد علی نے1967ء میں ویت نام جنگ میں شمولیت کے لیے فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد محمد علی کے خلاف بعض عدالتوں میں مقدمات قائم کیے گئے تھے جو ان کی فوتگی کے بعد بھی چل رہےہیں۔

کینیڈا روانگی سے قبل وائیٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں باکسر محمد علی کو معاف کرنے پرسنجیدگی سے غورکررہا ہوں۔ اس کے ساتھ ان دیگر افراد کو بھی معاف کرنے کو تیار ہوں جنہیں غیر منصفانہ مقدمات میں الجھایا گیا۔

ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ محمد علی ان 3000 افراد میں ایک ہیں جنہیں غیر منصفانہ ٹرایل کا سامنا کرنا پڑا۔ میں ان سب کو معاف کرنے پرغور کررہا ہوں۔

دوسری جانب مرحوم باکسر محمد علی کے کیسز کی پیروی کرنے والے ان وکیل رون ٹوویل نے’سی این این‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمد علی کی سزا معاف کرنے کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کہنا تھا کہ محمد علی کے کیسز میں ان کےموکل کو معاف کرنے کی اب ضرورت نہیں رہی ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 1967ء کو امریکی فوج میں بھرتی سے نکار پر ایک امریکی عدالت نے ان کا پاسپورٹ چھین اور باکسنگ اور ویٹ لفٹنگ میں ملنے والا ’ہیرو‘ کا لقب واپس لے لیا تھا۔ عدالت نے انہیں پانچ سال قید اور 10 ہزار ڈالرجرمانہ کی سزا بھی سنائی تھی۔ تاہم 28 جون 1971ء کو عدالت نے انہیں دی گئی تمام سزائیں بالاجماع کالعدم قرار دی تھیں۔