.

تاریخ : شکست کی عار سے بچنے کے لیے ولندیزی کپتان نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 1831ء میں بیلجیم میں ایک قومی ہیرو کا ظہور ہوا جب شجاعت اور وفاداری کے پیکر ایک عسکری اہل کار نے لڑائی کے دوران ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ... اور پھر ایک خود کش کارروائی کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں دشمن فوج کے سو سے زیادہ فوجی مارے گئے۔

ہالینڈ کا لیفٹننٹ Jan van Speyk جنوری 1802ء میں ایمسٹرڈم میں پیدا ہوا۔ بچپن میں ہی باپ کا سایہ اٹھ جانے کے سبب یتم بچّے کو کسمپرسی کی زندگی گزارنا پڑی۔ تاہم 1820 میں سرکاری طور پر ہالینڈ کی بحریہ میں شمولیت کے بعد جین کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی۔

سال 1823ء میں جین کو ولندیزی شرق الہند کی نو آبادی میں تعینات بحری فوج کے تحت کام کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ جین نے دو برس تک ان قزاقوں کے خلاف جم کر مزاحمت کی جنہوں نے خطے میں ہالینڈ کی تجارت کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ سال 1823ء سے 1825ء کے دوران جین وین اسپیک نے ترقی کی منازل طے کیں اور آخر کار ایک جنگی بحری جہاز کا کپتان بنا دیا گیا۔

اگست 1830ء میں ہالینڈ کے جنوبی علاقوں میں انقلاب کی تحریک سامنے آئی۔ فرانس کی سپورٹ سے ان علاقوں نے آزادی کی کوشش کی اور انقلاب کے نتیجے میں ایک نئی ریاست قائم ہوئی جس کو آج ہم بیلجیم کے نام سے جانتے ہیں۔

اس دوران جین وین اسپیک بیلجین انقلاب کا شدید ترین مخالف رہا۔ اس نے اپنے بحری جہاز کے ذریعے بیلجیم کی کئی بندرگاہوں پر کامیاب عسکری کارروائیاں کیں۔ تاہم 5 فروری 1831ء کو وہ ہو گیا جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اس روز کیپٹن جین کے بحری جہاز کو ہالینڈ کے جنوبی ساحلوں سے ٹکرانے والے طوفان سے شدید نقصان پہنچا۔ کیپٹن جین نے مجبورا بیلجیم کی آنتورپ بندر گاہ کا رخ کیا جہاں بیلجین انقلابیوں نے جہاز کا محاصرہ کر لیا۔ انقلابیوں نے جین سے مطالبہ کیا کہ وہ جہاز پر سے ہالینڈ کا پرچم اتار دے اور خود کو حوالے کر دے۔

تاہم ہالینڈ کے اس قومی ہیرو نے کچھ اور سوچ رکھا تھا۔ جین نے خود کو انقلابیوں کے حوالے کرنے کے بجائے جلتا ہوا سگریٹ بارود کے ایک ڈرم کی جانب پھینک دیا (دیگر ذرائع کے مطابق جین نے اپنے پستول سے بارود کے ڈرم کی جانب گولی چلائی تھی)۔ اس موقع پر جین نے اپنا یہ مشہور جملہ ادا کیا کہ "بہتر ہے کہ میں خود کو دھماکے سے اڑا دوں"۔

آنتورپ کی بندرگاہ ایک خوف ناک دھماکے سے لرز اٹھی۔ دھماکے کے نتیجے میں 100 سے زیادہ بیلجین انقلابی مارے گئے۔ ان کے علاوہ خود کش کارروائی میں کیپٹن جین کے جہاز کے عملے میں شامل 31 میں سے 28 افراد بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس خود کش کارروائی نے جین وین اسپیک کو 29 برس کی عمر میں ہالینڈ کا ایک قومی ہیرو بنای دیا۔ اس کی قربانی نے ہالینڈ کی فوج کا حصولہ بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کو بیلجین انقلاب کو کچلنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

دلیرانہ عمل قرار دیے جانے والی اس کارروائی کی یاد میں ہالینڈ کے بادشاہ نے 1833ء میں ایک فرمان جاری کیا جس میں حکم دیا گیا کہ ہالینڈ کی بحریہ میں ہمیشہ ایک جہاز جین وین اسپیک کے نام کا حامل ہوا کرے گا۔