.

سعودی عرب کا ویژن 2030ء جبکہ ایران کا ویژن 1979ء ہے: شہزادہ خالد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں متعیّن سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے 2030ء تک اہداف کے حصول کے لیے ایک ویژن وضع کیا ہے جبکہ ایران نے اپنے ویژن 1979ء پر توجہ مرکوز کررکھی ہے۔

سعودی سفیر امریکی سیاست دان میٹ رومنی کے زیر اہتمام ریاست اوٹاہ میں پارک سٹی میں ہونے والے سیاسی اجتماع ای 2 سمٹ میں گفتگو کررہے تھے۔ان کے ساتھ پینل میں امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال ریان شریک ِگفتگو تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ویژنز میں تصادم ہی کا دراصل ایران کو مسئلہ درپیش ہے۔ہمارے پاس ویژن 2030ء ہے ،ان کے پاس ویژن 1979ء ہے ۔ہم خطے کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔وہ خطے کو پیچھے لے جانا چاہتے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ویژن 2030ء کے اہداف کے حصول کے لیے خطے میں استحکام ضروری ہے۔سعودی عرب میں ہماری خارجہ پالیسی ہماری داخلی سیاست کے لیے ہے اور یہ ویژ ن اسی کا عکاس ہے’’۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ’’ بیرون ملک زیر تعلیم سعود ی طلبہ کی اکثریت ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا اپنا کردارادا کرنے کے لیے لوٹے گی‘‘۔ان کے بہ قول ’’بیرون ملک سے گریجوایٹ ہونے والے قریباً 99 فی صد طلبہ سعودی عرب لوٹتے ہیں ۔سعودی عوام اس لیے اپنے وطن سے محبت نہیں کرتے کہ وہ جدید ہے بلکہ وہ اپنے وطن کو جدید بنانے کے لیے کام کرتے ہیں کیونکہ وہ اس سے محبت کرتے ہیں‘‘۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے دوسرے بہت سے موضوعات پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔خاص طور پر انھوں نے سعودی خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے اقدامات کا ذکر کیا۔انھوں نے سامعین کو بتایا کہ ’’سعودی اسٹاک ایکس چینج کی سربراہ ایک خاتون ہیں ۔ان کا گذشتہ سال تقرر کیا گیا تھا۔مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی ہے کہ نیویارک اسٹاک ایکس چینج نے گذشتہ ما ہ ہی اپنی 226 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کا بہ طور صدر تقرر کیا ہے مگر ہمیں ایسے ہی فیصلے کے لیے صرف 34 سال لگے اور ہمارے ملک کی عمر صرف 86 سال ہے‘‘۔

انھوں نے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا:’’ مجھے فخر ہے کہ میں نے امریکیوں کے ساتھ تربیت حاصل کی اور ان سے مل کر ( داعش کے خلاف ) لڑا ہوں اور اب واشنگٹن میں اپنے ملک کی نمائندگی کررہا ہوں‘‘۔

شہزادہ خالد بن سلمان کو 2017ء میں امریکا میں سعودی عرب کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔وہ ایف 15 لڑاکا طیارے کے گریجو ایٹ پائیلٹ ہیں۔انھوں نے مسیس پی میں کولمبس ائیرفورس بیس سے ہوابازی کی تربیت حاصل کی تھی۔وہ ایک پائیلٹ کی حیثیت سے 2014ء میں شام اور عراق میں داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کے جنگی مشنوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

شہزادہ  خالد بن سلمان  کے ساتھ  پینل میں  امریکی ایوان  نمائندگان  کے اسپیکر   پال   ریان  شریک ِگفتگو  ہیں۔
شہزادہ خالد بن سلمان کے ساتھ پینل میں امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال ریان شریک ِگفتگو ہیں۔