.

شمالی کوریا سے کوئی بھی سمجھوتا ’’ حوصلہ افزائی کا لمحہ‘‘ ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن کے ساتھ ملاقات میں کوئی بھی سمجھوتا ’’ حوصلہ افزائی کا لمحہ‘‘ ہوگا۔انھوں نے اس کو ’’ امن مشن ‘‘ قراردیا ہے لیکن وہ خود اس کے حاصلات کے بارے میں پُریقین نہیں ہیں۔

انھوں نے ہفتے کے روز کینیڈا کے شہر کیوبک میں گروپ سات کے سربراہ اجلاس کے موقع پر نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ میرا ایک واضح مقصد ہے لیکن مجھے یہ کہنا ہے کہ جو کچھ ہونے جا رہا ہے، اس کو ہمیشہ حوصلہ افزائی کے ایک لمحے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے ،اس سے پہلے اس طرح اعلیٰ سطح پر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے‘‘۔

ان کا اشارہ امریکا اور شمالی کوریا کے سربراہوں کے درمیان 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی تاریخی ملاقات کی جانب تھا۔اس کے ایجنڈے میں شمالی کوریا کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام سرفہرست ہوگا۔ امریکا شمالی کوریا سے جوہری پروگرام سے دستبرداری کا مطالبہ کررہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ کِم کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن کم سے کم یہ ممکن ہے کہ سربراہ ملاقات سے شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان ایک ’’تعلق داری ‘‘قائم ہوجائے۔ واضح رہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات استوار نہیں ہیں۔

شمالی کوریا یک طرفہ طور پر اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے امکان کو مسترد کرچکا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کے پروگرام سدّ جارحیت اور امریکی جارحیت سے دفاع کے لیے ہیں ۔

صدر ٹرمپ نے نیوز کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ’’ وہ ایک منٹ میں یہ جان لیں گے کہ سربراہ ملاقات سے کوئی اچھائی برآمد ہورہی ہے۔میں اپنے محسوسات سے جان لیتا ہوں ۔ میں یہی کرتا ہوں ۔اگر میں یہ خیال کرتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوگا تو پھر میں اپنا وقت ضائع کرنے والا نہیں ہوں ‘‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ کِم جونگ اُن کو واشنگٹن کے دورے کی دعوت دے سکتے ہیں۔

شمالی کوریا کے لیڈر کِم کی آمد سے ایک روز قبل شمالی کوریا سے ایک براہِ راست پرواز سنگاپور پہنچی ہے ۔اس کے بعد یہ قیاس آرائی کی گئی ہے کہ سربراہ ملاقات سے قبل شمالی کوریا کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد مذاکرات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے آیا ہے۔اس میں کِم کے خصوصی معاون کِم چانگ سن بھی شامل ہیں۔ توقع ہے کہ کِم جونگ اُن آج اتوار کو سنگاپور کے چانگی ائیرپور ٹ پر پہنچیں گے۔