.

ڈونلڈ ٹرمپ ، کم جونگ اُن تاریخی ملاقات کے لیے سنگاپو ر پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن سے تاریخی ملاقات کے لیے اتوار کے روز سنگاپور پہنچ گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ کینیڈا میں گروپ سات کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد سیدھے سنگاپور پہنچے ہیں۔ان کی کِم جونگ اُن سے منگل کو ملاقات ہوگی ۔اس کے حوالے سے بہت سی توقعات وابستہ کی جارہی ہیں اور اگر دونوں لیڈروں کے درمیان جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کے لیے کوئی سمجھوتا طے پاجاتا ہے تو اس سے امریکا کی اپنے ایک سخت حریف ملک شمالی کوریا سے دشمنی کے خاتمے اور دوستی کی راہ ہوجائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنگاپور کے پایا لیبار ائیربیس پر پہنچنے کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی ہے ۔ان سے جب ایک صحافی نے پوچھا کو وہ شمالی کوریا کے لیڈر سے ملاقات کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں تو نھوں نے صرف یہ کہا:’’ بہت اچھا‘‘ ۔اس کے بعد وہ اپنی لیموزین پر بیٹھ کر سنگاپور کے وسط میں واقع اپنی جائے قیام ہوٹل کی جانب چلے گئے۔

ان سے پہلے شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن بھی سنگاپور پہنچ گئے ہیں۔دونوں لیڈروں کے درمیان منگل کو سنگاپور کی بندرگاہ کے ایک ریزارٹ آئلینڈ سینٹوسا میں میں واقع ہوٹل کاپیلا میں مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے ملاقات ہوگی۔اس طرح وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سےایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔

امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان 1950-53ء کی کوریا جنگ کے زمانے سے کشیدگی چلی آرہی ہے اور ان کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات منقطع ہیں۔اس سے قبل دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان کبھی ٹیلی فون پر بھی گفتگو نہیں ہوئی ہے بالمشافہ ملاقات تو بہت دور کی بات ہے۔

کِم جونگ چین سے مستعار لیے گئے ایک طیارے پر سفر کرکے آئے ہیں اور وہ سنگاپور کے چانگی ہوائی اڈے پر اترے تھے۔ان کے ساتھ وزیر خارجہ ری یانگ ہو اور ان کے ایک قریبی مشیر کِم یانگ چول بھی آئے ہیں۔ مسٹر کِم یانگ نے دونوں صدور کے درمیان ملاقات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وفد میں کِم جونگ اُن کی چھوٹی بہن کِم یو جونگ بھی شامل ہیں۔ انھوں نے فروری میں جنوبی کوریا میں منعقدہ سرمائی اولمپکس میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کی تھی ۔

امریکی صدر کے ساتھ وفد میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو ، قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن ، وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف جان کیلی اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارہ سینڈرس شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک روز پہلے کینیڈا کے شہر کیوبک میں نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن کے ساتھ ملاقات میں کوئی بھی سمجھوتا ’’ حوصلہ افزائی کا لمحہ‘‘ ہوگا۔انھوں نے اس کو ’’ امن مشن ‘‘ قراردیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’’ میرا ایک واضح مقصد ہے لیکن مجھے یہ کہنا ہے کہ جو کچھ ہونے جا رہا ہے، اس کو ہمیشہ حوصلہ افزائی کے ایک لمحے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے ،اس سے پہلے اس طرح اعلیٰ سطح پر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے‘‘۔

اس تاریخی ملاقات کے ایجنڈے میں شمالی کوریا کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام سرفہرست ہوگا۔ امریکا شمالی کوریا سے جوہری پروگرام سے دستبرداری کا مطالبہ کررہا ہے۔البتہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کِم کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن کم سے کم یہ ممکن ہے کہ سربراہ ملاقات سے شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان ایک ’’تعلق داری ‘‘قائم ہوجائے گی۔

شمالی کوریا یک طرفہ طور پر اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے امکان کو مسترد کرچکا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری اور میزائل پروگرام سدّ جارحیت اور امریکی جارحیت سے دفاع کے لیے ہیں ۔وہ امریکا سے جوہری پروگرام سے دستبرداری کے بدلے میں امداد کا طالب ہوگا اور اس سے مستقبل میں فوجی جارحیت نہ کرنے سے متعلق معاہدے کا بھی متمنی ہے۔