.

افغان دارالحکومت کابل میں خودکش بم حملہ ، 12 افراد ہلاک ، 31 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک وزارت کی عمارت کے باہر خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق سرکاری ملازمین جب وزارت برائے دیہی ترقی اور بحالی کے دفاتر سے نکل کر مرکزی بیرونی دروازے کے باہر جمع ہو رہے تھے تو حملہ آور بمبار نے ان کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا ۔ فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔یہ بم حملہ افغان حکومت کی عید الفطر کے موقع پر طالبان سے جنگ بندی کے آغاز سے ایک روز قبل ہوا ہے۔

افغان وزارتِ صحت کے ترجمان وحید مجروح نے بم دھماکے میں بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔وزارت برائے دیہی ترقی اور بحالی کے ترجمان فریدون اژند نے بتایا ہے کہ ملازمین سوموار کی دوپہر ایک بجے چھٹی کے بعد گھروں کو واپسی کے لیے عمارت کے داخلی دروازے پر بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔اس دوران میں خودکش بمبار نے ان کے درمیان دھماکا کردیا۔انھوں نے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر وزارت کے ملازمین ہیں اور ان میں بعض خواتین بھی شامل ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے گذشتہ جمعرات کو یک طرفہ طور پر طالبان کے ساتھ ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ستائیسویں رمضان منگل سے عید کے پانچویں روز تک (12 سے 19 جون تک ) جنگ بندی جاری رہے گی۔اس کے بعد افغان طالبان نے بھی پہلی مرتبہ سرکاری سکیورٹی فورسز کے ساتھ عید الفطر کے موقع پر تین روز کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا ۔البتہ انھوں نے کہا تھا کہ ’’ غیر ملکی قابضین ‘‘ کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔