.

ضخیم غیر ملکی سرمایہ کاری سعودی عرب کا رخ کرنے والی ہے : برطانوی مالیاتی ماہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حالیہ اقتصادی اصلاحات کے بعد دنیا بھر میں بہت سے بڑے سرمایہ کاروں کی نظریں مملکت کی جانب مرکوز ہو گئیں۔ توقع ہے کہ یہ اصلاحات طویل المیعاد معاشی سرگرمی کا سبب بنیں گی اور مختلف سیکٹروں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں گی جن مین سعودی اسٹاک مارکیٹ بھی ہے۔

برطانیہ کی Assets Management کمپنی جوپیٹر میں ایمرجنگ مارکیٹس کے شعبے کے سربراہ راس ٹیورسن نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب کی معیشت میں حالیہ اصلاحات کے نتیجے میں آئندہ عرصے کے دوران نمایاں بہتری آئے گی۔ لندن میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے باور کرایا کہ سعودی اسٹاک مارکیٹ آنے والے دنوں میں مزید غیر ملکی سرمیاہ کاری لائے گی۔

ٹیورسن کے مطابق سعودی عرب نے صحیح سمت میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "توانائی اور ایندھن کی قیمتیں غیر واقعی صورت میں کم ہو چکی ہیں اور اسی چیز نے مملکت کو سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ اپنے اقتصادی ذرائع میں تنوع لائے۔ یہ امر سعودی معیشت پر طویل مدت میں انتہائی مثبت صورت میں اثر انداز ہو گا۔ اگرچہ مختصر مدت میں یہ صارفین پر کچھ دباؤ ڈال سکتا ہے تاہم عمومی طور پر ہم سجھتے ہیں کہ سعودی عرب میں جو تبدیلیاں سامنے آئیں وہ مثبت تھیں"۔

ٹیورسن کا کہنا ہے کہ "سعودی کیپیٹل مارکیٹ کا ایمرجنگ مارکیٹ بننا ایک اہم اور بڑی پیش رفت ہے جس کے بعد ہم امید کرتے ہیں کہ یہ مارکیٹ مورگن اسٹینلے کے ایمرجنگ مارکیٹس انڈیکس میں درج ہو جائے گی"۔

سعودی ویژن 2030ء پروگرام کے حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو جواب دیتے ہوئے ٹیورسن کا کہنا تھا کہ "مملکت میں ویژن 2030 کے حوالے سے جو بنیادی اقتصادی اور ترقیاتی تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں وہ ہمہ جہت معیشت کو جنم دینے کے لیے ایک جوہری اقدام ہے"۔

برطانوی مالیاتی ماہر نے نے بتایا کہ "سعودی عرب 2020ء میں "جی ٹوئنٹی" سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ میں نے اپنے مملکت کے آخری دورے میں کنگ عبداللہ فنانشل سینٹر کا رخ کیا جہاں یہ اجلاس منعقد ہو گا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کئی منصوبے جاری ہیں جنہوں نے مجھے بیجنگ اور شنگھائی کے متعدد دوروں کی یاد دلا دی۔ یقینا سیاسی ارادہ منصوبوں کو تیزی سے انجام تک پہنچانے میں مرکزی محرّک ہے"۔

برطانوی ماہر نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی حالیہ مہم کو سراہا اور کہا کہ اس کا طویل مدت میں شفافیت کی سطح کو بڑھانے کے حوالے سے مثبت اثر ہو گا۔