ایران میں زیرحراست ’صوفی ‘ قیدیوں کی ایفین جیل میں بھوک ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں زیرحراست صوفی شیعہ فرقے کے آٹھ ارکان نے حکومتی مظالم اور فرقے کے ایک سرکردہ رہ نما نور علی تابندہ کی جبری نظر بندی کے خلاف جیل میں بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے ’ گونا بادین الدراویش ‘ جنہیں صوفی شیعہ کہا جاتا ہے کہ آٹھ ارکان نے تہران میں قائم ایفین جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ قیدیوں کا مطالبہ ہے کہ نور علی تابندہ کی جبری نظربندی فوری ختم کی جائے اور جیلوں میں ڈالے تمام کارکنوں کو رہا کیا جائے۔

’مجذوبان نور‘ نامی ویب سائیٹ کے مطابق ایفین جیل میں گذشتہ کئی روز سے ظفر علی مقیمی، محسن عزیزی، محمد باقر مقیمی، علی جمشیدی، حسن فھیمی، مصطفیٰ شیرازیان اور محمد علی کرمی نے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق ان لوگوں کی ہڑتال کا مقصد صوفی فرقے کے دیگر رہ نماؤں کی جبری قید یا نظر بندی کو ختم کرنا اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی روک تھام کرنا ہے۔

خیال رہے کہ چند ماہ قبل ایرانی پولیس نے تہران کی شاہراہ گلستان سے صوفی فرقے کے 360 رہ نماؤں اور کارکنوں کو جھڑپوں کے بعد حراست میں لے لیا تھا۔

حالیہ عرصے میں صوفی فرقے کے ارکان ایرانی جیلوں میں متعدد بار بھوک ہڑتالیں کرچکے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت فرقے کے سرکردہ رہ نما نور علی تابندہ اور قطب الدرویش گونابادین کی جبری نظربندی ختم کرے اور ان کے حقوق کی سنگین پامالیوں کو روکا جائے۔

ایران میں ’جنابادیہ‘ سلسلہ اہل تشیع کے ہاں سب سے زیادہ مقبول صوفی مسلک ہے۔ یہ سلسلہ طریقہ معروف شیعہ صوفی بزرگ سید نورالدین شاہ نعمت اللہ ولی الماھانی اور الکرمانی المعروف شاہ نعمت اللہ ولی سے جا کر ملتا ہے۔ شاہ نعمت اللہ ولی آٹھویں صدی ھجری کے آخری اور نویں صدی ھجری کے اوائل کے مشہور بزرگ تھے۔ انہوں نے اپنی فارسی شاعری میں جہاں معاشرتی اصلاح کی وہیں آنے والے حالات کی کچھ ایسی پیشن گوئیاں بھی کر رکھی جو کافی حد تک سچی ثابت ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں