سنگاپور سربراہ اجلاس کا اختتام : بڑی پیش رفت اور دستاویز پر دستخط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سنگاپور میں آج منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی تاریخی ملاقات اختتام پذیر ہو گئی۔

ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ آج بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ ایک دستاویز پر دستخط بھی ہوں گے۔

باقاعدہ اجلاس سے قبل ٹرمپ اور کِم کے درمیان ایک غیر سرکاری ملاقات ہوئی جس میں دونوں شخصیات صرف اپنے فوری مترجمین کے ہمراہ رُوبرو رہیں۔ اس کے بعد دونوں سربراہان نے اپنے وفدوں کے ساتھ اجلاس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر امریکی وفد میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور اور اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر جان بولٹن بھی موجود تھے۔

باقاعدہ ملاقات سے کچھ دیر قبل امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ "اچھے تعلقات" رکھتے ہیں۔ اس دوران دونوں شخصیات کی تصاویر بھی لی گئیں۔ اس موقع کِم جونگ اُن نے کہا کہ "ہمیں چیلنجوں کا سامنا ہو گا" تاہم انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔

اولین ملاقات کے دوران کِم کو مترجم کے ذریعے ٹرمپ سے یہ کہتے سُنا گیا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا اس لمحے کو دیکھ رہی ہو گی۔ دنیا میں بہت سے لوگوں کا خیال ہو گا کہ یہ ایک سائنس فکشن فلم کا منظر ہے"۔

ملاقات کے انجام کے حوالے سے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا "بہت اچھی، بہت بہت اچھی، ہمارے درمیان اچھا تعلق ہے"۔

دوسری جانب کِم جونگ اُن نے کہا کہ "ہم نے اس سربراہ ملاقات کے حوالے سے تمام تر شکوک اور قیاس آرائیوں کو شکست دے دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ امن کے واسطے اچھا ہے"۔

وسیع سطح پر ہونے والی بات چیت میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو، قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وہائٹ ہاؤس کے سینئر اہل کار جون کیلی شامل تھے۔ ادھر کِم جونگ کی ٹیم میں عسکری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ کِم وینج چول، وزیر خارجہ ری جونگ ہو اور حکمراں جماعت کے نائب سربراہ ری سو جونگ شامل تھے۔

دونوں سربراہوں کی ملاقات کے دوران سنگاپور میں جنگی بحری جہازوں اور اپاچی ہیلی کاپٹروں کا گشت جاری رہا جب کہ لڑاکا طیارے بھی فضاؤں میں گھومتے رہے۔

ایشیائی فنانشل مارکیٹس بھی مستحکم رہیں اور ملاقات کے آغاز کے بعد کوئی نمایاں رد عمل سامنے نہیں آیا۔ ڈالر کی قدر گزشتہ تین ہفتوں کے دوران بلند ترین سطح پر رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں