.

ایران :انسانی حقوق کی معروف کارکن نسرین ستودہ دوبارہ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سکیورٹی فورسز نے انسانی حقوق کی معروف وکیل نسرین ستودہ کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔

نسرین ستودہ کے خاوند رضا خاندان نے فیس بُک پر ایک پوسٹ میں ان کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ تہران میں گھر سے گرفتاری کے بعد انھیں ایوین جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو شہریوں کو گرفتار کرنے کے سوا کوئی کام نہیں ہے۔

نسرین ستودہ کو اس سے پہلے 2010ء میں ایران کی قومی سلامتی کونقصان پہنچانے اور پروپیگنڈا پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور عدالت نے انھیں چھے سال قید کی سزا سنائی تھی اور ان پر قانون کی پریکٹس کرنے پر پابندی عاید کردی تھی۔

انھوں نے 2012ء میں جیل میں اپنی بیٹی کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہ ملنے پر بھوک ہڑتال کردی تھی اور مسلسل پچاس روز تک یہ بھوک ہڑتال جاری رکھی تھی ۔

امریکا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ان کی گرفتاری پر ایران کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھیں ایرانی حکومت نے ستمبر 2013ء میں صدر حسن روحانی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہونے سے قبل رہا کردیا تھا۔

نسرین ستودہ ایران میں خواتین کے حقوق کی بازیابی کے لیے سرگرم ہیں اور انھوں نے حال ہی میں عوامی مقامات پر حجاب اور سرپوش نہ اوڑھنے والی خواتین کی نمائندگی کی تھی۔