.

ایران: مذہبی بنیاد پر درجنوں طلبہ جامعات سے خارج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران درجنوں ایرانی طلبہ کو ان کے بہائی مذہب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کی جامعات سے نکال دیا گیا۔

ایران میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کے مطابق چند روز قبل 21 سالہ طالبہ سُہی ایزدی کو اُس کے بہائی مذہب کی وجہ سے زنجان یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ سُہی کی گریجویشن میں ایک سال رہ گیا تھا۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں زیر تعلیم سہی کو یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے فون کال پر بتایا گیا کہ وہ اپنی تعلیم کمل نہیں کر سکے گی اور اس کا نام طلبہ کے ریکارڈ سے حذف کر دیا گیا ہے۔

سہی نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ "ایک ایسے معاشرے میں جو عورت پر یقین نہ رکھتا ہو تعلیم حاصل کرنا دشوار امر ہے تاہم بحیثیت بہائی ہونے کے میرے لیے تعلیم کا حصول نا ممکن ہے.. تین برس کی محنت کے بعد جب کہ میری گزشتہ برس پہلی پوزیشن تھی، مجھے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا"۔

سہی کے والدین کا کہنا ہے کہ انہیں بھی ماضی میں اُن کے مذہب کی وجہ سے امتحانات میں بیٹھنے اور تعلیم کا عمل مکمل کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ عدالت میں ان کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا گیا۔

سُہی سے قبل گزشتہ چند ماہ کے دوران پانچ طلبہ و طالبات کو اُن کے مذہب کی وجہ سے جامعات سے نکال دیا گیا۔

ان طلبہ کو نکالے جانے کا فیصلہ ایرانی آئین کے مخالف ہے جو ایرانی جامعات میں بہائیوں کے تعلیم کے حصول کو ممنوع قرار نہیں دیتا۔ تاہم رہبر اعلی علی خامنہ ای کے حکم پر سپریم انقلابی کونسل کی جانب سے جاری فیصلہ واجب العمل ہے۔ بہائیوں کو روکے جانے کا یہ فیصلہ ایرانی انقلاب کے دو برس بعد 1981ء میں سامنے آیا۔ اس کے نتیجے میں بہائیوں کے زیر انتظام خود مختار جامعات تحلیل کر دی گئیں اور ان کے اساتذہ کو طویل مدت کے لیے گرفتار کر لیا گیا۔

بہت سے بہائیوں کو اپنے عقائد کے سبب ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے اور ان کے رقوم ضبط کر لی گئیں اور تعلیم سے محروم کر دیا گیا بلکہ بعض مرتبہ تو ماورائے قانون موت کی نیند بھی سلا دیا گیا۔

ایران میں 3 لاکھ کے قریب بہائی رہتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران 850 سے زیادہ بہائیوں کو گرفتار کیا گیا جن میں 80 سے زیادہ کو طویل مدت کی جیل کی سزا سنائی گئی۔

ہیومن رائٹس واچ کی 2018ء کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2017ء تک ایران کی جیلوں میں کم از کم 92 بہائی افراد زیر حراست ہیں۔

تنظیم کے مطابق ایرانی حکومت دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف بھی امتیازی برتاؤ کی مرتکب ہے جن میں سنی مسلمان شامل ہیں۔ حکومت نے آذری، کرد، عرب اور بلوچی اقلیتوں کی ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد کر رکھی ہے۔