.

ایران کے مفادات کے بغیر جوہری ڈیل کا حصہ رہنا ناممکن : حسن روحانی کا ماکروں سے مکالمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے ملک کو امریکا کی دستبرداری کے بعد جوہری سمجھوتے سے کوئی فائدہ نہیں ملتا تو اس کے لیے اس کا حصہ رہنا ممکن نہیں ہوگا۔

ایرانی صدر نے منگل کے روز فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور ان سے امریکا کی جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’وہ یورپ کے مؤقف سے مطمئن ہیں ۔بالخصوص وہ فرانس کی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے کوششوں کو سراہتے ہیں لیکن ان بیانات کے ساتھ ٹھوس عملی اقدامات بھی کیے جانے چاہییں‘‘۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق صدر حسن روحانی نے عمانوایل ماکروں سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر تہران جوہری ڈیل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تو پھر اس کے لیے عملی طور پر اس کا حصہ رہنا ممکن نہیں ہے‘‘۔

فرانسیسی صدر کے دفتر کے مطابق ماکروں نے صدر روحانی سے کہا کہ ’’فرانس جوہری ڈیل کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہے لیکن ایران کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں کو مکمل طور پر پورا کرے‘‘۔

’’ جمہوریہ کے صدر نے فرانس ، برطانیہ ، جرمنی ،روس اور چین کی جانب سے ویانا سمجھوتے کو اس کے تمام پہلوؤں سمیت برقرار رکھنے کے عزم کا ا ظہار کیا ہے‘‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

’’ صدر ماکروں نے صدر روحانی کو ہماری جانب سے اس حوالے سے کام پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بتایا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کسی ابہام کے بغیر اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے گا‘‘۔

ماکروں کے دفتر نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ایران سے جوہری سمجھوتے پر دستخط کرنے والے باقی مذکورہ پانچوں ممالک کا ویانا میں آیندہ ہفتوں میں کسی وقت اجلاس ہوگا۔فرانس کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس 25 جون سے شروع ہونے والے ہفتے میں کسی روز ہوسکتا ہے۔