.

قطر کا ایران کے ساتھ اتحاد ایک شرم ناک امرہے: شیخ سلطان بن سحیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شیخ سلطان بن سحیم نے بدھ کو سلسلہ وار ٹویٹس میں ایرانی رجیم کی طرف داری پر دوحہ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’ قطری کے طور پر ہمارے لیے اس سے بڑی شرم کی بات اور کوئی ہو نہیں سکتی کہ ایک کے بعد دوسرا حمد رجیم فارسیوں کا دفاع کررہا ہے مگر کس کے خلاف؟ وہ سعودی ، اماراتی ، بحرینی اور کویتی بھائیوں کے خلاف فارسیوں کا دفاع کررہا ہے۔اگر یہ شرم کی بات نہیں تو پھر یہ کیا ہے؟‘‘

شیخ سلطان قطر کے سابق امیر حمد بن خلیفہ اور سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ حمد بن جاسم بن جابر کا حوالہ دے رہے تھے۔

انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’ دیانت دار اور دلیر عرب اس وقت حوثی باغیوں کے پنجے سے الحدیدہ کی بندرگاہ کو آزاد کرانے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ غدار قطری رجیم ایرانی ایجنٹ بن کر اپنی غداری کے پر پُرزے دکھا رہا ہے۔شریف قطریوں کے لیے اس سے بد ترین دن اور کیا ہوسکتے ہیں‘‘۔

شیخ سلطان کے والد شیخ سحیم بن حمد بن عبداللہ آل ثانی قطر کے حکمراں خاندان کے رکن تھے اور وہ اس خلیجی ریاست کے پہلے وزیر خارجہ رہے تھے۔ان کے بھائی خلیفہ بن حمد آل ثانی تب امیر قطر تھے۔شیخ سحیم کے بیٹے سلطان اب قطر کے موجودہ امیر شیخ تمیم بن حمد کی قیادت میں حکمراں خاندان کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں۔انھوں نے گذشتہ سال جون میں قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک کے مؤقف کی کھل کر حمایت کی تھی ۔

انھوں نے العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ’’ قطر پر تمام آل ثانی خاندان کی حکومت نہیں بلکہ ایک مخصوص گروہ کی حکمرانی ہے۔یہ مخصوص لوگوں پر مشتمل رجیم ( نظام ) ہے۔ان میں حمد بن خلیفہ ، تمیم بن حمد اور حمد بن جاسم بن جابر شامل ہیں اور یہ سب سے بڑے مجرم ہیں‘‘۔