.

یمنی صدر کا الحدیدہ کو واگزار کرنے کے لیے فوجی کارروائی کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے سرکاری فوج اور عوامی مزاحمتی فورسز پر زور دیا ہے کہ وہ مغربی شہر الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے عرب اتحاد کی مدد سے فیصلہ کن کارروائی کریں ۔

یمنی خبررساں ایجنسی سبا کے مطابق صدر منصور ہادی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ الحدیدہ کی گورنری حوثیوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے انسانی المیے سے دوچار ہونے والی ہے۔وہاں کی ابتر صورت حال میں حوثیوں کے اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

یمنی صدر نے کہا کہ ’’ ہم نے تین حوالہ جاتی نکات کی بنیاد پُرامن سیاسی حل کے لیے کوششیں جاری رکھی ہیں۔ ہم خلیج اقدام ، جامع قومی مکالمے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 کے تحت بحران کا سیاسی حل چاہتے تھے۔ہم نے فوجی حل سے بچنے کے لیے بہت سی رعایتیں دی ہیں لیکن ہم اپنے عوام کے مصائب سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور باغی ملیشیا کی مسلط کردہ جنگ کو طول دینے کی اجازت نہیں دے سکتے‘‘۔

قبل ازیں یمنی حکومت نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اس نے الحدیدہ کی بندر گاہ سے حوثی ملیشیا کو پُرامن طریقے سے بے دخل کرنے کے تمام سیاسی ذرائع آزما دیکھے ہیں۔ حوثی جنگجو الحدیدہ کی بندرگاہ کو اسلحے کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کررہے ہیں تاکہ وہ اس جنگ کو طول دے سکیں اور یمنی عوام کو قتل کرسکیں۔

اس بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ الحدیدہ کی بندرگاہ کو حوثی باغی یمنی فوج اور عرب اتحادی فورسز پر حملوں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھی وہ حملے کررہے ہیں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

یمنی فوج اور عوامی مزاحمتی فورسز نے بدھ کی صبح عرب اتحاد کی مدد سے الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہ کو حوثیوں کے قبضے سے واگزار کرانے کے لیے سرکاری طور پر معرکے کا آغاز کردیا ہے۔یمن کے ایک فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ عرب اتحاد کی فضائی اور بحری مدد سے ایک سے زیادہ اطراف سے الحدیدہ کی جانب پیش قدمی کی جارہی ہے ۔