.

سعودی عرب پر داغے گئے میزائلوں کے حصّے ایران میں تیار ہوئے : آنتونیو گوتیریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتریس نے سلامی کونسل کو پیش کی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں باور کرایا ہے کہ جولائی 2017ء کے بعد سے یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی اراضی پر داغے جانے والے بقیہ پانچ میزائل ایرانی ساخت کے معروف میزائلوں کا ہی ڈیزائن رکھتے ہیں، ان کے بعض حصّے ایران میں ہی تیار کیے گئے۔

ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں پر عمل درامد کے بارے میں 14 صفحات پر مشتمل شش ماہی رپورٹ میں گوتیریس نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ اس بات کا تعیّن نہیں کر سکی کہ یہ میزائل یا ان سے مربوط ٹکنالوجی کب ایران سے حوثیوں کو منتقل ہوئی اور آیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی "خلاف ورزی" ہوئی۔ یہ رپورٹ منگل کے روز سلامتی کونسل کے حوالے کی گئی۔

ادھر ایران نے گوتیریس کو مخاطب کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ یہ پالیسی نہیں رکھتا اور نہ وہ ہتھیاروں اور عسکری ساز و سامان کی یمن منتقلی یا وہاں تیاری کے لیے کوشاں ہے۔

اقوام متحدہ کے خود مختار ماہرین نے جنوری میں سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایک علاحدہ رپورٹ میں تصدیق کی تھی کہ ایران نے پابندیوں کے ایک دوسرے نظام کی خلاف ورزی کی جس میں یمن شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ زیادہ تر پابندیوں کو جنوری 2016ء میں اُس وقت اٹھا لیا گیا تھا جب اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے تصدیق کر دی کہ ایران نے جوہری معاہدے کے مطابق شرائط کی پاسداری کی ہے۔ البتہ ایران کو دیگر پابندیوں کے علاوہ ابھی تک اقوام متحدہ کی جانب سے ہتھیاروں کی ممانعت کا سامنا ہے۔

گوتیریس کے مطابق اقوام متحدہ کے ذمّے داران نے بحرین میں پکڑے جانے والے ہتھیاروں اور اس سے متعلقہ مواد کا اور امارات میں ضبط کیے گئے ایک بحری جہاز کا بھی معائنہ کیا۔ یہ جہاز جس پر عملے کے ارکان نہیں تھے گولہ بارود لے کر جا رہا تھا۔

گوتیریس نے مزید بتایا کہ جنرل سکریٹریٹ کو پورا یقین ہے کہ دونوں واقعات میں زیر معائنہ آنے والے بعض ہتھیاروں اور متعلقہ مواد کو ایران میں تیار کیا گیا۔ البتہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا کہ یہ مواد 16 جنوری 2016ء کے بعد ایران سے منتقل کیا گیا۔