.

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں مدیر کے قتل کے الزام میں مشتبہ شخص گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر میں پولیس نے معروف صحافی اور ان کے دو محافظوں کے قتل کے الزام میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

ریاست کے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کو مقامی روزنامے رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر سید شجاعت بخاری کو نزدیک سے گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

ریاست کے انسپکٹر جنرل پولیس ایس پی پنی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ گرفتار مشتبہ شخص کا نام زبیر قادری ہے اور اس کو کلوز سرکٹ کیمرے کی ایک ویڈیو میں مقتول ایڈیٹر کے ایک محافظ کی پستول چُراتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس شخص کے قبضے سے پستول برآمد کر لی گئی ہے اور اس سے جائے وقوعہ پر موجودگی کے حوالے سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔وہ ابھی تک کوئی معقول جواب نہیں دے سکا ہے۔

مسٹر پنی نے شجاعت بخاری کے قتل کو دہشت گردی کے حملے کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تین دوسرے حملہ آوروں کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ریاست میں بھارتی فورسز کے خلاف برسرپیکار جنگجو گروپوں لشکر طیبہ اور متحدہ جہاد کونسل نے بھی قتل کے اس واقعے کی مذمت کی تھی اور اس میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔انھوں نے بھارتی ایجنسیوں کو اس قتل کا ذمے دار قرار دیا تھا۔
مقتول شجاعت بخاری متنازع ریاست کشمیر میں امن کے پُرجوش داعی تھے اور وہ ریاست میں قیام امن کے لیے آواز اٹھاتے رہتے تھے۔ان کے قتل کے خلاف سیکڑوں کشمیریوں نے سری نگر اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے ۔ پاکستان سمیت بین الاقومی صحافتی تنظیموں نے ان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو تحفظ مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں اس سال کے اوائل سے بھارتی فورسز کے پُرامن مظاہرین پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور ان کی تشدد آمیز کارروائیوں میں اب تک 130 سے زیادہ کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال بھارتی فورسز کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کے دوران مین جھڑپوں میں انتیس کشمیری شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔اس مسلم اکثریتی ریاست میں گذشتہ تین عشروں سے بھارت کی حکمرانی کے خلاف جاری اس تحریک کے دوران میں 70 ہزار سے زیادہ کشمیری مارے جاچکے ہیں۔