.

افغان صوبے ننگرہار میں ایک اور خودکش بم دھماکا ، 14 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں اتوار کو ایک خودکش بم دھماکے میں چودہ افراد ہلاک اور کم سے کم پچاس زخمی ہوگئے ہیں ۔ننگرہار میں ہفتے کے روز بھی ایک خودکش کاربم دھماکا ہوا تھا اور اس میں مرنے والوں کی تعداد چھتیس ہوگئی ہے۔

ننگر ہار کے گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے بتایا ہے کہ خودکش بمبار نے گورنر کے دفتر کے باہر لوگوں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔اس وقت بہت سے لوگ گورنر کے دفتر میں ایک اجتماع میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے۔ انھوں نے بم دھماکے میں چودہ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ پینتالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن یہ بھی سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی کارروائی لگتی ہے۔ داعش نے گذشتہ روز ننگرہار کے قصبے غازی امین اللہ خان میں کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی۔داعش کے مقامی جنگجوؤں نے ننگرہار کے بعض دیہی علاقوں میں اپنے مضبوط ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور امریکا کی قیادت میں نیٹو فوج نے ماضی میں ان کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے اور نہ کوئی ڈرون حملہ کیا ہے۔

داعشی بمبار نے گذشتہ روز اپنی بارود سے بھری کار کو لوگوں کے ہجوم کے درمیان میں ایسے وقت میں دھماکے سے اڑایا تھا جب افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان عید الفطر کے موقع پر پہلی مرتبہ جنگ بندی جاری تھی۔ وہ دارالحکومت کابل سمیت مختلف شہروں میں آپس میں گھل مل رہے تھے اور اپنے اپنے اسمارٹ فونز میں یہ خوش گوار مناظر سیلفیوں کی شکل میں محفوظ کررہے تھے۔

اس خودکش حملے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ جاری سات دن کی جنگ بندی میں مزید نو دن کی توسیع کا ا علان کیا تھا۔تاہم طالبان نے اس پیش کش کے جواب میں اپنی اعلان کردہ تین روزہ جنگ بندی میں کوئی توسیع نہیں کی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک وٹس ایپ پیغام میں کہا ہے کہ ’’جنگ بندی آج ( اتوار کی) رات ختم ہوجائے گی اور ان شاء اللہ ہماری کارروائیوں کا دوبارہ آغاز ہوجائے گا۔ہم جنگ بندی میں توسیع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے‘‘۔

افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے چیئرمین محمد کریم خلیلی نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کو قبول کرلیں اور امن عمل کا حصہ بن جائیں۔انھوں نے دارالحکومت کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں اس توقع کا اظہار کیا کہ طالبان کی قیادت بھی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردے گی۔انھوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ ہفتے حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی تھی۔