.

الحدیدہ سے انخلا، یو این ایلچی کی پیش کش رد کریں یا قبول؟ حوثی کمانڈروں میں اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ میں حوثی شیعہ باغیوں کی کمان کےدرمیان سرکاری فوج سے جاری لڑائی میں لائحہ عمل اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس کی انخلا کی پیش کش کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

مارٹن گریفتھس نے حوثیوں کو یہ پیش کش کی ہے کہ وہ الحدیدہ کی بندر گاہ کا کنٹرول اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے سپرد کردیں اور شہر پر قبضے کے لیے پیش قدمی کرتی یمنی فوج سے مزید محاذ آرائی سے گریز کریں۔

حوثیوں کی کمان کے قریبی ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ الحدیدہ میں جنگی محاذوں پر موجود کمانڈروں میں عالمی ایلچی کی پیش کش کو قبول یا رد کرنے کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔حوثیوں کو شہر میں اب تک جاری لڑائی میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔

بعض کمانڈروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ لڑائی جاری رکھتے ہیں تو انھیں مزید جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ،اس لیے وہ الحدیدہ سے انخلا کے حق میں ہیں لیکن بعض دوسرے کمانڈروں کا خیال ہے کہ ’’ الحدیدہ ان کے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے اور اگر امن یا جنگ کے ذریعے ایسا ہوتا ہے تو پھر ان کا بھی انجام قریب آ لگے گا‘‘۔

حوثیوں کے درمیان ان اختلافات کی وجہ سے ان کے مختلف موقف سامنے آئے ہیں۔قبل ازیں حوثی ملیشیا کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مارٹن گریفتھس کا صنعاء کا حالیہ دورہ ناکام رہا ہے اور حوثیوں نے ان کی پیش کش قبول نہیں کی ہے جبکہ خود مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ انھیں حوثی کمانڈروں کی جانب سے مثبت اشارے ملے تھے اور وہ مزید مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

الحدیدہ میں ہتھیار نہ ڈالنے پر اصرار کرنے والے حوثی کمانڈر اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ ان کے فوجی وسائل سرکاری فوج کو شکست دینے کے قابل نہیں ہیں۔تاہم ان ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض حوثی کمانڈر بیرونی فورسز پر مدد کے لیے انحصار کررہے ہیں اور انھیں انسانی امداد روکنے پر عالمی برادری کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

ایک ذریعے نے مزید بتایا ہے کہ الحدیدہ میں لڑائی پر اصرار کرنے والے کمانڈروں کو اس بات کا بہ خوبی علم ہے کہ اگر انھوں نے شہرکو خالی کردیا تو پھر ان کے پاس کھیلنے کے لیے کوئی پتا نہیں رہے گا اور وہ مذاکرات کے دوران میں کوئی سودے بازی نہیں کر سکیں گے۔

اس ذریعے کا کہنا تھا کہ مارٹن گریفتھس حوثی لیڈر عبد الملک الحوثی سے ملاقات پر اصرار کررہے ہیں تاکہ وہ ان سے بالمشافہ ملاقات میں تمام آپشنز پر تبادلہ خیال کرسکیں اور مزید خون ریزی سے بچا جاسکے۔نیز ان کے خیال میں اب مسئلے کا حل حوثیوں اور ایرانیوں کے ہاتھ میں ہے۔

دریں اثناء عرب اتحاد نے الحدیدہ کے ہوائی اڈے پر فضائی حملہ کیا ہے۔عرب اتحاد کی مدد سے یمنی فوج ہوائی اڈے کے اندر ونی حصے پر کنٹرول کے لیے حوثی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہی ہے ۔حوثیوں کے زیر انتظام سبا نیوز ایجنسی کے مطابق عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے ہوائی اڈے سمیت الحدیدہ شہر پر اتوار کو پانچ حملے کیے ہیں۔